Donald Trump 21

امریکی صدر کے مواخذے کا اعلان لیکن انہیں عہدے سے ہٹانے کیلئے کیا کچھ کرنا ہوگا؟ ماہرین نے واضح کردیا

لاہور(کامران مغل)امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخدہ کے لئے انکوائری کرانے کے اعلان کے حوالے سے آئینی ماہرین کا کہناہے کہ امریکی صدر کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے مشکل آئینی مراحل سے گزرنا ہوگا جوبظاہر ممکن نظر نہیں آرہا۔ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جاسکتی،انہیں صرف مواخذہ کے ذریعے ہی عہدہ سے ہٹایا جاسکتاہے جس کے لئے ضروری ہے کہ صدر پر سنگین نوعیت کے الزامات ہوں جن میں جسمانی اور دماغی عارضہ،سنگین مالی بے ضابطگیاں، بدعنوانیاں یا غداری جیسے الزامات شامل ہیں۔امریکی آئین کے تحت صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک ایوان نمائندگان میں پیش کی جاتی ہے،ایوان نمائندگان سادہ اکثریت سے قراردادمنظور کرکے سینیٹ کو بھیجتا ہے،ایوان نمائندگان قراردادمنظور کرتے وقت الزامات کے حوالے سے ایک طرح سے فردجرم بھی تیارکرتاہے،جب سینیٹ میں یہ معاملہ جاتاہے تویہ نیم عدالتی کارروائی کی شکل اختیار کرلیتاہے اور مواخذہ کے حوالے سے سینیٹ کے جو اجلاس ہوتے ہیں ان کی صدارت امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کرتے ہیں،مواخذہ کے سینیٹ اجلاسوں کو عدالتی طرز پر چلایاجاتاہے اوردونوں طرف سے دلائل اورثبوت پیش کئے جاتے ہیں،اگر ایوان نمائندگان کی طرف سے لگائے گئے الزامات درست پائے جائیں تو پھر سینیٹ دوتہائی اکثریت سے صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک منظورکرسکتاہے جس کے نتیجہ میں صدر اپنے عہدہ سے فارغ ہوجاتاہے۔آج تک کسی امریکی صدر کو مواخذہ کے ذریعے گھر نہیں بھیجاگیا،ایک امریکی صدر جانسن کے خلاف مواخذہ کی تحریک آئی تھی اور انہوں نے کارروائی سے پہلے ہی اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیاتھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں