prisoners 56

فلسطینی قیدیوں کے نطفہ کی مصنوعی منتقلی سے 92 بچوں کی پیدائش

فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید شادی شدہ فلسطینیوں کے نطفہ کی مصنوعی طریقے سے رحم مادر میں منتقلی کے نتیجے میں اب تک 92 بچے پیدا ہوچکے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے نطفہ کی منتقلی کے عمل سے پیدا ہونے والے بچوں کوسفیران حریت(آزادی کے سفیر)کا نام دیا گیا ۔
انہوں نے بتایا کہ مصنوعی طریقے سے مرد قیدیوں کے مادہ تولید کی منتقلی کے عمل سے اب تک بانوے بچے اور بچیاں جنم لے چکے ہیں۔الاشقر کا مزید کہنا تھا کہ اسیران کے نطفے کی منتقلی کے ذریعہ جو قیدی والد بنے ان میں طولکرم کے رہائشی محمد عادل زیتاوی بھی شامل ہیں جن کے نطفے سے دو جڑواں بچے پیدا ہوئے۔ ان کے نام تیم اور عمید رکھے گئے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی قیدی کے ہاں نطفہ کی مصنوعی طریقے سے منتقلی کے عمل سے اولاد پیدا کی ہو۔ فلسطینی قیدیوں کے نطفے کی مصنوعی منتقلی کا عمل چار سال قبل شروع ہوا اور اس طریقے سے پیدا ہونے والے پہلے بچے کا نام غالب رکھا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں