begum kulsoom nawaz 33

مادرِ جمہوریت کا مقدمہ (1)

11ستمبر 2018ء سے 11ستمبر2019ء …… وقت کاالمیہ ہی کہئے کہ وقت سہما ہوا تھم کر کھڑا ہے…… تبدیلی کا گھوڑا برقی رفتار سے سبک گام ِا احتساب ہونے کے سبب سیاست گویاسال پہلے ہی کی سی عدم برداشت کی بے حس کیفیت میں منجمداور ساکت کھڑی ہے……اور گویا تقدیریں بدلنے یا نئی تقدیریں لکھنے کی کوشش میں، ملکی سیاست کا دم دار ستارہ پورا ایک برس احتساب کے مدار کے چکر کاٹنے کے بعد بھی تنگی ئ قلب کی گھٹن میں خوار و زبوں،معاملہ فہمی کی راہ میں حائل ذاتی عنادکے گرہن سے نکلنے کو کسی نئے سیاسی big bang پر تلا بیٹھا محسوس ہو رہا ہے……

بیگم کلثوم دُنیا سے رخصت ہوئیں تو نہ تب باؤ جی اور گڑیا ان کے سرہانے رو پائے تھے اور نہ ان کے پہلے یومِ وصال پر ان کے سرہانے بیٹھ سکے…… میاں صاحب اور مریم بی بی کے دل سے اس احساس کا زخم مندمل اب تک نہ ہو پایا تھا کہ گویا کلثوم صاحبہ کو داغِ مفارقت انہوں نے دیا تھا جب ان کو اللہ کے سپر د، وینٹی لیٹر پر چھوڑ کرخود یہاں جیل بھگتانے برطانیہ سے پاکستان لوٹ آئے تھے…… اب پہلی برسی پر ان کے سرہانے نہ بیٹھ پانے سے جو ٹیس اٹھی ہو گی، اس نے نہ جانے ان کے دُلوں کو اور کتنا چھلنی کر دیا ہو گا۔ میاں صاحب اور مریم بی بی کی کلثوم صاحبہ سے جذباتی وابستگی کی شدت جان کر بھی جاننا ذرا مشکل سا معاملہ ہے……جب سے اڈیالہ جیل سے رہا ہو کر باہر آئیں تو ما سوائے دو دن، جب ان کو شہر سے باہر جانا پڑا، کوئی دن ایسا نہ گزرا کہ جب مریم بی بی عصر سے مغرب کے دوران اپنی امی کی آخری آرام گاہ پر ان کے سرہانے موجود نہ رہی ہوں ……سلام، دونفل، سورۃالملک او ر سورۃ المزمل کی تلاوت روزانہ کا معمول رہا۔ میاں صاحب بھی جیل سے رہائی کے بعد جتنے روز اپنے گھر رہ پائے، روزانہ ایک گھنٹہ میاں شریف مرحوم و مغفور اور کلثوم صاحبہ کے سرہانے گزارتے، مغرب کی نماز وہیں ادا کرتے اور طویل دُعا کرتے۔

عجیب بھی لگتا تھا، کوفت بھی ہوتی تھی کہ جب میڈیا پر بیٹھے شہ دماغ باوثوق انداز میں تجزئیے پیش کرتے، سوال اٹھاتے کہ اڈیالہ سے رہائی کے بعد میاں صاحب اور مریم بی بی چپ کیوں ہیں اور انتہائی مدبرانہ انداز میں ہوائیاں چھوڑی جاتیں کہ ’کہیں کوئی ڈیل ہوئی ہے، اور پھر تان لمبی کھینچی جاتی……حالانکہ معاملہ یہ تھا کہ میاں صاحب اور مریم بی بی، دونوں کا دل کلثوم صاحبہ کی وفات کے بعد بہت بوجھل سا رہا…… مریم بی بی کا حال یہ رہا کہ خود کہتی تھیں کہ ”ابھی کسی سیاسی activity پر دل آمادہ نہیں،، ”ابھی دِل نہیں مانتا،، ”ابھی امی کی death کے اثر سے باہر آنے میں مجھے وقت لگے گا،،……مہینہ بعد تک بھی اپنی امی کی یوں جدائی اور ان کے پاس نہ ہونے کے غم کا یہ عالم تھا کہ رو رو کر خود کو ہلکان کر رکھا تھا……یہاں تک کہ شائبہ گزرا کہ خدا نخواستہ آنکھوں پر اثر نہ پڑ گیا ہو۔ مہینے سے کافی اوپر ہو چلا تھا……ان کو حوصلہ دینے کے لئے کہا کہ ”اللہ کے فیصلے ہیں ……آپ اپنی امی کی وجہ سے hurt…… مجھے احساس ہے……اور مجھے معلوم ہے کہ آپ کیسا محسوس کرتی ہیں کہ آپ یہاں تھیں اور آپ کی امی آپ کو miss کرتی رہی ہوں گی اور کیا سوچتی ہوں گی……لیکن یہ اللہ کے فیصلے…… آپ حوصلہ رکھیں ……،، او ر پھر کہا کہ ”آپ کے چھوٹے بھائی کے طور پر آپ کو کہہ رہا ہوں ……کہ پلیز آپ نے اب رونا نہیں،، تو بتانے لگیں کہ ”ہاں، دو دن پہلے امی کو بھی خواب میں دیکھا……انہوں نے مجھے رونے سے منع کیا……تب سے رونا کم ہو گیا، لیکن متین……ماں کا مر جانا بہت ہی بڑا دکھڑا……،، مَیں نے لیکن پھر کہا کہ ”لیکن میرے سے وعدہ کریں ……رونا نہیں آپ نے……،، کہنے لگیں …… ”ان شاء اللہ۔ میں پہلے ہی کوشش کر رہی تھی……،، سو ایک طرف ایک بیٹی کی دل گرفتگی اور غم کا یہ حال تھا اور دوسری طرف کمال قسم کے تجزئیے!!

میاں نواز شریف اڈیالہ سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کئے جانے کے دوران،شہباز شریف صاحب کی گرفتاری کے بعد پارٹی رہنماؤں کو حوصلہ دینے کے لئے باامرِ مجبوری محض ایک سیاسی میٹنگ میں شامل ہوئے۔اس ایک میٹنگ میں بھی وہ انتہائی بوجھل اورسیاسی معاملات سے غیر متعلق دِکھ رہے تھے۔ انہوں نے خود بھی کہا: ”میں آج آپ کے سامنے ایک انتہائی غم زدہ شخص بیٹھا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم کن حالات سے گزرے اور گزر رہے۔برا وقت انسان پر آ جاتا ہے……مصائب، دکھ،تکالیف بھی زندگی کا حصہ……اللہ رحمت فرمائے اور عافیت والا معاملہ کرے،،۔

میاں نواز شریف نے لیکن مختصر سیاسی تبصرہ بھی کیا اور کمال ہی کیا: ”عمران خان جو کچھ کر رہا، ہمارے لئے باعث ِ اطمینان ہے کہ عمران خود تباہی کے راستے پر چل رہا ہے۔ اگر تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کرتا تو تب ہمیں پریشانی ہوتی۔حکومت نے ایک سو دنوں کی بات کی ہے……اگر کچھ کرنا ہوتا تو ایک مہینے میں نظر آجاتا۔میں اپنے سیاسی تجربے اور vision کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ انتخابات کے بعد بننے والی، پاکستان کی تاریخ کی یہ سب سے کم مدتی حکومت ہو گی۔ یہ حکومت خود اپنے بوجھ سے گرے گی۔ ہمیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہئے کہ ان کو کوئی بہانہ ملے کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا……،، ایک طرف میڈیائی تجزیہ کاروں کی ڈیل ڈھیل کی آوازیں تھیں، دوسری طرف میاں صاحب پارٹی لیڈروں سے مخاطب ہو کر کہہ رہے تھے: ”ہم اس ملک، آئین، جمہوریت کے لئے جان دینے کو تیار ہیں۔ ایٹمی دھماکے کرنے والے، بجلی پیدا کر کے لوڈشیڈنگ ختم کرنے والے، موٹرویز بنانے والے، بغاوت کے مقدمے بھگت رہے…… جیلوں میں ڈالے جارہے…… یہ معاملات ٹھیک ہونے چاہئیں۔ سیاست کرنی ہے تو یہ بدلنا چاہئے ورنہ سیاست چھوڑ دینی چاہئے،، ۔ خیر یہ تو مختصرذکر تھا اِک سال کا…… اور ضروری اس لئے کہ مقدمے،پیشیاں، سزائیں، بیگم کلثوم کی بیماری اور رحلت، ڈیل ڈھیل کی ہاہاکار……

سب آپس میں جڑا ہوا ہے۔ یہ جو ہلکا سا تذکرہ کیا (اور مریم بی بی کی اجازت کے بغیر) مقصد صرف یہ بتاناکہ سب کچھ تجزیہ کاروں اور کیمروں اور نیوز رومز کی نظر میں نہیں ہوتا۔ فولادی عزم والا، بظاہر جذباتیت سے بیگانہ میاں نواز شریف اور ان کی بہادر بیٹی جتنے بھی مضبوط سہی، ہیں بہرحال انسان…… ناکردہ گناہوں کی سزا ہو اور اس میں ہمیشہ کا درد شامل ہو جائے تو دل پھر نواز شریف اور اس کی بیٹی کا بھی دکھتا ہے…… درد ان کو بھی ہوتا لیکن اللہ اور ولیوں کے کرم سے سہہ جانے کی طاقت بہت ہے…… یہ درد بھی بہرحال کوئی معمولی نہیں تھا۔ محترمہ کلثوم نواز جیسی خاتون…… مادرِ جمہوریت محترمہ کلثوم نواز…… سب اچھا کہیں جسے! سب کا مطلب…… سب کے سب! سب اپنے، سب پرائے، سب سیاسی مخالف، سب موافق…… !

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ محترمہ کلثوم نواز کا اعجاز معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسی شخصیت جس کے سر ایک مزاحمتی سیاسی تحریک اورایک سیاسی جماعت کی قیادت کا سہرا رہا ہو، وہ ہر دل عزیز اور ہر خاص و عام کے لئے یکساں محترم ہو…… یقینا ایں سعادت بزورِ بازو نیست! …… محترمہ کے انتقال کی خبر آنے کے بعد ان کی تدفین تک اور خصوصاً جس روز ان کے انتقال کی خبر آئی…… یہ پہلی مرتبہ مشاہدہ میں آیا تھاکہ ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے تبصرہ نگار، تجزیہ کار، متعدد اینکرز اورحتیٰ کہ سخت سے سخت تکلیف دہ خبر جذبات سے قطعی بیگانہ ہو کر سنا ڈالنے میں ماہر ”نیوز کاسٹرز،، بھی بیگم کلثوم کے سانحہئ ارتحال پر سخت مغموم اور خبرِ بد سناتے ہوئے نم دیدہ دکھائے دئیے۔بہت سے مہمانوں، خصوصاً خواتین اینکرز پر رقت طاری نظر آئی، چند کی تو آنکھوں میں آنسو تھم بھی نہ پائے تھے۔ صدارتی نظام کا شوشہ تو خیر پرانا، آزمودہ اور ناکام…… لیکن آج پھر چند بندگانِ خاکی اس کی صدائیں لگا رہے،بلکہ آوازیں کس رہے…… جمہوری پارلیمانی نظام پر……! بیگم کلثوم حیات ہوتیں تو میاں صاحب دھڑلے سے ”چیلنج،، کر سکتے تھے کہ ”کڈ لو، جیڑا سپ کڈنا! ہماری امیدوار کلثوم نواز ہے……!“ فرض کیجئے کہ بیگم کلثوم کے دورانِ حیات، جسٹس منیر کی میراث کسی پھپھوندی زدہ صندوق، شریف الدین پیرزادہ کی کسی طلسماتی پٹاری یاارشاد حسن کی کسی پی سی او تجوری سے صدارتی نظام برآمد ہو پڑتا …… اور محترمہ کلثوم نواز میدان میں اتر آتیں …… تو ذرا چشمِ تصور سے نظارہ کیجئے…… جب نتائج آتے تو ہر خاکی اور نوری کا ٹھاٹھ دھرا رہ جاتا، جادو الٹا پڑ جاتا…… اور کسی ”بکسا چوری،، کے بغیر، مادرِجمہوریت کے حق میں نتیجہ تقریباً ویسا ہی آتا، جیسے کہ ہر ریفرنڈم کا آئین شکن ”بکسا چور،، کے حق میں …… مادرِ ملت کی حق تلفی کی تلافی مادرِ جمہوریت کے ہاتھ ہو جاتی!!

مادرِ جمہوریت کا خطاب بیگم نصرت بھٹو کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔صد شکر کہ ہر دورِ آمریت میں جمہوریت کو سیاسی جدوجہد کے پرخار دشت کی سعی کرنے والی ماں کا سایہئ عافیت میسر آتا رہا وگرنہ شاید پاکستان میں بھی آمریت چند اور ممالک کی طرح ایک نہیں بلکہ کئی عشرے بلا رکاوٹ مناتی …… کہ جمہوریت کا بڑا بچہ زیرِ عتاب آنے کے بعد، دیگر یا تو آمریت کے گدھے کو باپ بنا لیتے یا پھر ”حقیقت پسند“ بن کر اچھے بچے بن کر رہنے کی کوشش کرتے۔ خیر، محترمہ کلثوم نواز کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد یورپ کے قلب لندن اور پھر زندہ دلوں کے شہر لاہور، ہر دو جگہ، جذبات سے مغلوب اور عقیدت سے معمور عوام کے جم ہائے غفیر نے ”مادرِ جمہوریت…… الوداع! الوداع!!،،کہہ کر ان کو سفرِ آخرت پر رخصت کیاتھا۔ ”جٹکے،، لاہوری دکھائی دینے والے، جن میں ایسے بھی کہ پہلی نظر پڑنے پر محسوس ہوتا ہو کہ شاید زندگی میں بمشکل ہی اردو کا کوئی لفظ بول پائے ہوں …… ”مادرِ جمہوریت…… الوداع! الوداع!!،، کے عقیدت میں گندھے نستعلیق الفاظ، ان کے لبوں بلکہ دِلوں سے یوں ادا ہو رہے تھے کہ لفظوں سے اتھاہ عقیدت، لہجے میں دِل فگار سوز اور آواز میں دل گداز جذبات چھلک رہے تھے۔(جاری ہے)
بشکریہ: صلاح الدین

اپنا تبصرہ بھیجیں