15

چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی صنعتی زونز کے قیام سے ملک میں معاشی انقلاب اور اقتصادی استحکام کا آغاز ہو گا، چیئر مین پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین سہیل پاشانے بتایا کہ چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی صنعتی زونز کے قیام سے ملک میں معاشی انقلاب اور اقتصادی استحکام کا آغاز ہو گا جبکہ اقتصادی راہداری کا مذکورہ منصوبہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے جس سے توانائی کا بحران ختم اور تباہ حال ملکی انفراسٹراکچر بحال کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔
بدھ کے روز اے پی پی سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت تمام منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جس کا فائدہ آئندہ چند ماہ میں ملک و قوم کو ملے گا نیز سی پیک کے تحت زون قائم ہونے کا فائدہ نہ صرف چین بلکہ پاکستان کو بھی ہوگا اسلئے مقامی صنعت کاروں کو چاہئے کہ وہ ان خصوصی صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کریں جس کے بہت فوائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ سے چین کی بڑے پیمانے پر برآمدات شروع اور مشرق وسطیٰ و افریقہ تک ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کی تعمیر اور تکمیل میں سب سے بڑا کردار پاک فوج کا ہے کیونکہ دنیا بھر میں پھیلی دہشت گردی کی لہر سے کوئی محفوظ نہیں لیکن پاک فوج سی پیک کے تحت زیر تعمیر منصوبوں میں کام کرنے والے چینی ورکرز کو فول پروف سکیورٹی فراہم کر رہی ہے اور پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے سبب آج ملک میں امن قائم ہے اور دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان آرہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاک آرمی نے ملک سے 99فیصد دہشت گردی ختم کر دی جبکہ باقی ماندہ مٹھی بھر د ہشت گرد بھی جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ انہوںنے کہا کہ امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد تجارتی و صنعتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی حب کراچی میں امن کیلئے رینجرز کی لازوال قربانیوں کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ملک کو درپیش مسائل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق معاشی پالیسیاں بنائے تاکہ صنعتوں کو فروغ حاصل اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوںنے کہا کہ صنعتوں میں اضافے سے ورکرز کی کھپت بڑھ جاتی ہے اسلئے جتنی زیادہ صنعتیں قائم ہوں گی اتنا ہی بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی کرنسی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث آئندہ دنوں میں ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا جس سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مزید بڑھیں گے، درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا جس کا تمام تر بوجھ عوام پر پڑے گاجو پہلے ہی غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کا شکار ہیں اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری ایسے اقدامات یقینی بنائے جس سے بجلی ، گیس ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں استحکام آسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں