30

انڈیا میں اقلیتوں کی شہریت کا ترمیمی بل پیش لیکن پاکستان کے کن شہریوں کو بھارت کی شہریت دینے کی تجویز دی گئی؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

لاہور (کالم : ریاض احمد چودھری ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے مشیر و وزیر ہر وقت کسی ایسے اقدام کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے افراتفری پیدا ہو۔ کیونکہ اب مودی سرکار کی پالیسیوں اور دوران الیکشن کیے گئے وعدوں کے ایفاء نہ ہونے سے بھارتی عوام میں افراتفری پیدا ہو رہی ہے۔ اقلیتوں سمیت نچلی ذات کے ہندو بھی حکومتی پالیسیوں سے تنگ ہیں۔ کاروبار، روزگار معیشت بالکل تباہ ہو رہی ہے۔ بے روزگار پڑھے لکھے نوجوان سڑکوں پر پھر رہے ہیں۔ اسی لئے بھارتی حکومت نت نئے منصوبے قوانین اور شرارتیں کر کے عوام کا دھیان اپنے سے ہٹانا چاہتی ہے۔

ضرور پڑھیں: پاکستانی لڑکیوں کا رشوت دے کر محرم کے بغیر عمرہ پر جانے کا انکشاف، نیا ہنگامہ برپا ہوگیا
بھارتی حکومت کی طرف سے حال ہی میں ایک نئی شرارت کی گئی ہے کہ اقلیتوں کی شہریت کا ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ یہ بل دونوں ایوانوں اور انڈین صدر رام ناتھ کووند سے منظوری کے بعد اب نیا قانون بن چکا ہے لیکن پنجاب اور مغربی بنگال سمیت پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلی نے کہا ہے کہ وہ اس متنازع قانون کو اپنی ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپش بگھیل اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ نے بھی اس کے نفاذ کے حامی نہیں ہیں۔ آئینی طور پر اس کا اطلاق پورے ملک میں ہوتا ہے، لیکن اس کے خالف ملک بھر میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں اور بہت سے لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

بل میں غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی ترامیم شامل ہیں جس کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے ہندو، بودھ، جین، سکھ، مسیحی اور پارسی غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس رہنما کپل سبل نے دعوی کیا کہ بل سے آئین کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ متنازعہ بل کی منظوری سے دو قومی نظریہ حقیقت بن جائیگا۔ مودی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن پاکستان کی زبان بول رہی ہے۔ سابق وزیر داخلہ چدمبرم نے کہا کہ ذمہ دار حکومتی شخصیت جواب دے۔ پارلیمان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بل میں اسلام کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ امیت شاہ نے دعوی کیا کہ مسلمان ہندوستانی محفوظ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ کانگریس کے آنند شرما نے کہا کہ کپل سبل بل کی مخالفت کرتے ہیں۔نظر ثانی کریں، تاریخ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ضرور پڑھیں: ” ملک کے تمام سیاستدان جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 سے نکلے ہیں”
بھارت میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل ’سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ‘ کے خلاف پورے بھارت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اقلیتیں، سول سوسائٹی کے ارکان، نوجوان اور طلبا بل کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ مغربی بنگال تک پہنچ چکا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہزاروں طلبہ شہریت کے متنازع ترمیمی بل کے خلاف پہلے ہی سٹرکوں پر تھے جبکہ مغربی بنگال کے چار اضلاع میں مشتعل مظاہرین نے کم از کم 17 بسوں، پانچ خالی ریل گاڑیوں، فائر برگیڈ اور پولیس کی گاڑیوں کو نظر آتش کر دیا جبکہ آدھا درجن ریلوے سٹیشنوں پر توڑ پھوڑ کی گئی۔یہ مظاہرے مغربی بنگال کے مسلم اکثریتی اضلاع مرشد آباد، ہوڑہ، مالدہ اور شمالی 24 پرگناس میں جاری ہیں جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

آسام اور تری پورہ میں عوام کو خدشہ ہے اس قانون کے منظور ہونے کے بعد ان ریاستوں میں بنگلہ دیش سے آنے والے پناہ گزینوں کا سیلاب آجائے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آسام کے شہریوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے حقوق، شناخت اور خوبصورت ثقافت متاثر نہیں ہوگی۔ بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون بی جے پی کے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے اور انڈیا کی سکیولر حیثیت کو بدلنے کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ 700 سے زیادہ بھارتی ممتاز شخصیات نے جن میں قانون دان، وکلا، دانشور اور اداکار بھی شامل ہیں، ایک بیان میں اس بل کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بظاہر حکومت کا مقصد معاشرے میں بے چینی پیدا کرنا ہے۔ دیگر بہت سے افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ اس بل میں صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے غیرمسلم تارکین وطن کا ہی ذکر کیوں ہے جبکہ انڈیا کے دیگر ہمسایہ ممالک میں بھی انہیں مذہبی امتیاز کا سامنا ہے۔

مسلمان رکن اسمبلی اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ یہ قانون ہٹلر کے قوانین سے زیادہ برا اور مسلمانوں کو بے ریاست بنانے کی سازش ہے۔ کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ اس بل کی جو بھی حمایت کرے گا وہ ’انڈیا کی بنیاد کو تباہ کر رہا ہو گا‘۔ تاہم بی جے پی کے رہنماؤں اور حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے خلاف نہیں۔

بھارتی پارلیمان سے منظور ہونے والے شہریت کے متنازعہ ترمیمی بل کو انڈین یونین مسلم لیگ نے غیرمسلم غیرقانونی تارکینِ وطن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے درخواست کی کہ اسے غیرقانونی قرار دیا جائے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت کے متنازعہ قانون کا نفاذ فوری طور پر روکنے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔ مذکورہ قانون کے خلاف 60 درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنا مؤقف پیش کرے۔

بھارت کا اقلیتیوں کی شہریت کا متنازع ترمیمی بل نہ صرف بھارت میں بلکہ عالمی طورپر تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن اور وزیر داخلہ اسد الزمان نے بھارت کا دورہ کرنا تھا جو بل کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سٹیزن ایکٹ بھارت کے سیکولر کردار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ادھر امریکی کانگریس کے رکن آندرے نے بھارت کے متنازعہ شہریت ترمیمی بل پر بیان میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد آج پھر مودی کا ایک اور تباہ کن اقدام دیکھ رہے ہیں۔ مودی کی پارٹی کی تاریخ کے حساب سے یہ کارروائی غیرمتوقع نہیں ہے۔ یہ اقدام بھارت میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش ہے۔ مودی نے اقلیتی مسلم برادری کو نشانہ بنایا جو بھارت کی ثقافت ہے۔ یہ اقدم دو ایٹمی طاقتوں میں تناؤ بڑھا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں