24

کورونا وائرس کے علاج کے لیے تیار ویکسین کے پہلے نسخے کا ایک رضا کار خاتون پر تجربہ

کورونا وائرس کے علاج کے لیے تیار ویکسین کے پہلے نسخے کا ایک رضا کار خاتون پر تجربہ۔ امریکہ کے ریسرچرز نے سوموار کو کورونا وائرس کے لیے تیار ویکسین پر تجربہ کرتے ہوئے خاتون کو پہلا شاٹ دیا۔

تفصیلات کے مطابق سیٹل میں واقع کیسر پرمیننٹ واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ریسرچرز نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے تیار کردہ ویکسین کا ایک رضا کار خاتون پر تجربہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تجربہ مزید 45 مستعدی افراد پر ہوگا۔ ادارے کی سربراہ ڈاکٹر لیزا جیکسن کا تجربے کی شام کہنا تھا کہ ’’ ہم اب کورونا وائرس کی ایک ٹیم ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہنگامی صورت حال پر قابو پانے کے لیے ہر آدمی اپنی اسطاعت کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ویکسین کا پہلا تجربہ ایک چھوٹی سی نجی کمپنی کی آپریشنز مینیجر پر کیا گیا۔

خاتون کو معائنے کے لیے مختص ایک کمرے میں انجیکشن لگایا گیا۔ خاتون رضا کار کے علاوہ 45 مزید رضاکار خود پر ویکسین کا تجربہ کروانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔

ویکسین کا پہلا شاٹ لینے والی 43 سالہ خاتون جینیفر ہیلر کا شاٹ لینے سے پہلے کہنا تھا کہ ’’ہم سب نے خود کو بے بس محسوس کیا‘‘ چنانچہ میرے لیے یہ کچھ کرنے کا اچھا موقع ہے۔
اس ے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کورونا کی روک تھام کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس حوالے سے ہونے والے تجربات کے نتائج جلد ہی سامنے آئیں گے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ رواں سال اگست تک کورونا وائرس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی تباہ کاریاں جولائی یا اگست تک جاری رہ سکتی ہیں، ہم اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی پوری کوشش کرر ہے ہیں، ان تمام ممالک کے ساتھ سرحدیں بند کردیں گے جو وائرس کے بڑے پھیلاؤ کے سامنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف ہمارے اقدامات ضروری ہیں اور اگر ضروری ہوا تو ہم ان میں تبدیلی کریں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سٹاک مارکیٹس کو کورونا کی وجہ سے ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے عارضی ہسپتالوں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کہ بیمار افراد کے لیے عارضی سپتالوں کی تعمیر کے لیے فوجی مدد کی ضرورت ہوگی تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کا ارادہ رکھتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے کورونا کا مقابلہ کرنے میں مدد کے لیے نئی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ سماجی پروگراموں میں شرکت سے گریز کریں اور کسی بھی جگہ پر10 افراد جمع نہ ہوں۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جو 170 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔ کورونا وائر س کی بڑھتی تعداد نے شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈا ل دیا ہے۔
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 7171 افراد زندگی کی بازی ہا ر چکے ہیں ، جبکہ ایک لاکھ سے زائد افراد اس خطرناک وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سندھ میں مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے متعلق مفروضوں کی حقیقت بتا دی ہے۔
کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے بچاوٴ کے لیے مفروضوں کو بیان کیا جانے لگا۔ تاہم اب عالمی ادارہ صحت نے مختلف مفروضوں کو کورونا وائرس سے جوڑے جانے پر رد عمل دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق گرم یا ٹھنڈے پانی سے نہا کر وائرس سے نہیں بچا جا سکتا۔ اس بات میں بھی کوئی حقیقت نہیں کہ کورونا وائرس گرم علاقوں میں نہیں پھیلتا، ساتھ ہی ساتھ لہسن کا استعمال بھی کورونا سے بچاوٴ کا حل نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے بچاوٴ کے لئے صرف صاف رہنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں