70

تقسیم کے وقت سے بھارت میں بند مسجد کو سکھوں نے آباد کر دیا

نئی دہلی (08دسمبر 2019ء) تقسیمِ ہندوستان کے وقت سے بھارت میں بند مسجد کو سکھوں نے آباد کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سکھ برادری نے ایک ایسی مسجد کی مرمت کر کے مسلمان برادری کے حوالے کردی جو کہ 1947 میں بٹوارے سے پہلے کی تعمیر شدہ ہے اور بٹوارے کے بعد سے بند تھی۔ اس ھوالے سے سکھ برادری کا کہنا ہے کہ بٹوارے کے وقت جب وہ یہاں آئے تھے تو اسی مسجد نے انھیں پناہ دی تھی۔
بھارت کے مشرقی پنجاب کے ضلع موگا کے گاؤں مہنا کے رہائشی رنجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ہمیں برے وقتوں میں اس مسجد میں پناہ ملی اس لیے ہم اس کی بہت عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے گورو نے تمام انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا درس دیا ہے۔ رنجیت سنگھ نے بتایا کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور ہجرت کر کے بھارتی پنجاب کے گاؤں مہنا میں جاکر آباد ہوئے جب وہ ہجرت کر کے گئے تو انہوں نے اسی مسجد میں پناہ لی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو مسجد بند پڑی تھی اور انہیں نہیں پتا کہ مسلمان اس وقت وہاں نماز پڑھتے تھے یا نہیں۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ انہوں نے سوچا کہ جو مسلمان یہاں رہتے ہیں وہ یہاں نماز نہیں پڑھ سکتے جس کی وجہ سے انہیں مشکلات ہوتی ہوں گی اس لیے میں نے برادری کے ساتھ مل کر اس کی مرمت کروائی اور اسے مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔
پہلے یہاں مسلمان کم تھے لیکن اب دوسرے صوبوں سے بھی مسلمان مزدوری کرنے کیلئے یہاں آکر آباد ہوگئے ہیں اور مسجد آباد ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھارت میں بابری مسجد کو ہندوؤں کو دیے جانے کے بعد ایک 70 سالہ سکھ نے مسجد کی تعمیر کے لیے اپنی آبائی 900 مربع فٹ زمین مسلمانوں کو فراہم کردی تھی۔ اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے قصبے قاضی پور میں سکھ شہری نے علاقے میں مسجد کی تعمیر کے لیے جذبہ خیر سگالی کے تحت اپنی زمین تحفتاً مسلمانوں کو دے دی تھی۔
سماجی کارکن سُکھ پال سنگھ بیدی نے زمین کے کاغذات پنچائت کے چیئرمین ظاہر فاروقی کے حوالے کردیے تھے۔ا س موقع پر سماجی کارکن سُکھ پال سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ امن اور مذہبی ہم آہنگی بابا گرونانک کی تعلیمات ہیں اور انہی تعلیمات کی پاسداری کرتے ہوئے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مساوی سلوک اور احترام کے جذبے کے تحت زمین مسجد کی تعمیر کے لیے مختص کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں