20

شوگر کمیشن تحقیقات کی مخبری کرنے والے افسر کے بارے میں مزید انکشافات سامنے آ گئے

شوگر انکوائری کمیشن کا آفیسر شوگر ملز مالکان کا مخبر نکلا،ابتدائی انکوائری کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد باجوہ کو معطل کردیا گیا تھا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد باجوہ مخدوم خسروں بختیار کی شوگر مل کے حوالے سے غلط معلومات دے کر انکوائری کمیشن کو گمراہ کرتا رہا۔تاہم اب شوگر کمیشن تحقیقات کی مخبری کرنے والے افسر سجاد باجوہ کے بارے میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔
سجاد باجوہ 1992 میں پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے بغیر اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوا۔ذرائع ایف آئی اے کے مطابق انہیں نواز شریف دور میں خلاف قانون ملازمت حاصل کرنے کے الزام میں برطرف کردیا گیا تھا۔سجاد باجوہ کو اپنے محکمے کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے پر لاہور سائبر کرائم سے ہٹا کر ہیڈکوارٹر کلوز کیا گیا۔
سجاد باجوہ نے موقف دیا ہے کہ شوگر ملز کی انتظامیہ سے متعلقہ ریکارڈ کے لئے رابطے میں تھا۔

واضح رہے کہ ما تحریک انصاف خسروبختیار اور اہم شخصیت کیلئے جاسوسی کرنے والا شوگر کمیشن کا ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ معطل کیا گیا تھا۔گذشتہ روز چینی سکینڈل ، فارنزک رپورٹ کی تیاری سے متعلق ملزموں کو اہم معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ایف آئی اے نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ باجوہ کو معطل کرتے ہوئے احکامات جاری کیے گئے۔الزام عائد کیا گیا کہ سجاد باجوہ نے چینی بحران پر معلومات خسروبختیار اور ایک اہم شخصیت کو دی ہیں۔
ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ سجاد نے شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانے کیلئے شوگر کمیشن کو غلط معلومات فراہم کی۔ سجاد باجوہ چینی سکینڈل پر جاری تحقیقات کیلئے بنائی جانے والی ٹیموں میں سے ایک کا سربراہ بھی بتایا گیا ہے۔ واضح رہے وزیراعظم کو چینی بحران پر پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چینی برآمد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، برآمدکنندگان نے صورتحال سے دوہرا فائدہ اٹھایا ہے، پہلے سبسڈی حاصل کی اور پھر مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھا کر بھاری منافع بھی کمایا ۔
چینی کی قیمت دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک بڑھا دی گئی تھی حالانکہ جی ایس ٹی میں اضافہ کا اطلاق یکم جولائی 2019 میں ہوا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2019 میں چینی کی برآمد کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں قیمت فوراً بڑھنا شروع ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد پرحکومت کی جانب سے سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والوں میں مخدوم عمر شہریار ( مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار) کا ملکیتی آر وائے کے گروپ شامل ہے جس نے مجموعی برآمدی سبسڈی کا 15.83 فیصد حاصل کیا جو 3.944 ارب روپے بنتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں