37

گوگل نےلاک ڈاؤن کی صورت حال واضح کرنے کے لیے کووڈ-19 کمیونٹی موبیلٹی رپورٹ جاری کر دی

کووڈ-19 کی عالمگیر وبا سے ایک ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 53 ہزار سے زیادہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔کووڈ-19 کی بیماری کی وجہ بننے والے وائر س SARS-CoV-2 کا ابھی کوئی علاج نہیں ہے۔ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا بھر کی حکومتیں لاک ڈاؤن کر کے شہریوں سے سماجی فاصلہ رکھنے کی درخواست کر رہی ہیں۔حکومتوں کی ان کوششوں کے موثر ہونے یا نہ ہونے میں مدد دینے کے لیے گوگل نے کووڈ-19 کمیونٹی موبیلیٹی رپورٹس جاری کی ہیں۔
یہ رپورٹس پاکستان سمیت دنیا کے 131 ممالک یا علاقوں کے لیے جاری کی گئی ہیں۔
ان رپورٹس میں کسی بھی علاقے میں مختلف جگہوں جیسے پارکس، ٹرانزٹ سٹیشن، دفاتر ، رہائشی اور تفریحی علاقوں میں لاک ڈاؤن سے پہلے اور بعد کی صورت حال کے فرق کو دکھایا گیا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ رپورٹس کی تیاری کے لیے جو ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے، اس میں صارفین کی ذاتی معلومات شامل نہیں۔

یہ ڈیٹا ان صارفین کا ہے جنہوں نے اپنی لوکیشن ہسٹری کو فعال کیا ہوا ہے۔یہ ڈیٹا بالکل ایسے حاصل کیا گیا ہے جیسے گوگل میپس میں حاصل کیا جاتا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں بھی یہ رپورٹس فراہم کرتا رہے گا۔ گوگل کو امید ہے کہ ان رپورٹس کی بنا پر حکام اور محکمہ صحت کے حکام کو پالیسیز بنانے میں کافی مددملے گی۔
پاکستان کی رپورٹ کے مطابق خردہ فروشی اور تفریح میں 70فیصد کمی ہوئی ہے۔
گروسری اور فارمیسی پر بھی لوگوں کی موومنٹ میں 55 فیصد کمی ہوئی ہے۔پارکوں میں موومنٹ میں 45 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ٹرانزٹ سٹیشن پر 62 فیصد موومنٹ کم ہوئی ہے۔دفاتر میں لوگوں کی موومنٹ 41 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ رہائشی علاقوں یعنی گھروں میں رہنے کا رجحان 18 فیصد بڑھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں