15

80ممالک میں کورونا وائرس کے خونی پنجے‘عالمی معیشت لرزنے لگی

کورونا وائرس دنیا کے 80 ممالک میں پنجے گاڑ چکا ہے جس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد3200سے تجاوزکرچکی ہے جبکہ 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں. امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے جبکہ ریاست کیلیفورنیا میں وائرس کی وجہ سے پہلی ہلاکت کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے 71 سالہ شخص کیلیفورنیا کے ساحل پر لنگر انداز بحری جہاز میں میکسکو جانے کے لیے سوار ہوا تھا جو کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوگیا، جس کے بعد عملے اور مسافروں میں بھی وائرس کی علامتیں ظاہر ہونے پر جہاز کو واپس جانے سے روک دیا گیا.
بحری جہاز کی کمپنی کے مطابق جہاز پر تقریباً اڑھائی ہزار مسافر سوار ہیں اور عملے کے ارکان کی تعداد ایک ہزار 150 ہے کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم نے ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کیلیفورنیا کیسز کی شناخت اور کورونا وائرس کا پھیلاﺅ کم کرنے کے لیے حکومت کی ہر سطح پر کام کررہی ہے.کورونا وائرس جہاں انسانوں کی جانیں لے رہا ہے وہیں اس نے دنیا کی اقتصادیات کو بھی ہلاکررکھ دیا ہے آرگنائزیشن آف اکنامک کواپریشن کا کہنا ہے کہ گلوبل جی ڈی پی میں1اعشاریہ 5فیصد تک کمی آئی ہے جبکہ اس میں 2اعشاریہ4فیصد تک کمی کا امکان ظاہرکیا جارہا ہے جوکہ 2008میں آنے والے عالمی معاشی بحران سے بھی زیادہ ہے ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا سخت معاشی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے کیونکہ ایک طرف وائر س کے خوف سے عالمی تجارت رک گئی ہے جبکہ دوسری جانب پوری دنیا میں سیاحت متاثر ہوئی ہے جو کہ اربوں ڈالر سالانہ کی انڈسٹری ہے .

اوای سی ڈی کا کہنا ہے کہ انسانی تاریخ کا یہ بدترین بحران ثابت ہورہا ہے اور ا س میں کمی آنے کی بجائے ہر دن اضافہ ہورہا ہے‘ادارے کی ڈائریکٹرکا کہنا ہے کہ توقع کی جارہی تھی کہ گلوبل جی ڈی پی2اعشاریہ9فیصد تک رہے گا لیکن عالمی اقتصادیات کی حالت کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہدف کا نصف بھی پورا کیا جاسکے گاجس کی وجہ سے عالمی ادارے نے ہدف کو کم کرکے نصف سے بھی کم کردیا ہے.
معاشی اعتبار سے دنیا کی سب بڑی معاشی طاقت امریکا کو بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے اور امریکا کی سٹاک مارکیٹس کئی ہفتوں سے مسلسل مندی کا شکار ہیں نیویارک ٹائمزکے مطابق امریکی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 2500ارب ڈالر سے زیادہ ڈوب چکے ہیں اور سپلائی لائن ٹوٹنے سے روزانہ کئی سو ملین ڈالرکا نقصان ہورہا ہے تو دوسری جانب امریکی صارفین کے لیے اشیاءضروریہ کی فراہمی ایک بڑا مسلہ بن رہی ہے.
امریکا کے تقریبا تمام بڑی سٹورچینزکی بنیادی سپلائی چین سے ہے ایک چھوٹا سا حصہ مقامی یا حظے کے قریبی ممالک سے ہے چائنہ سے سپلائی لائن میں تعطل آجانے سے امریکا میں خوراک سمیت عام ضرورت کی اشیاءکی قلت پیدا ہونا شروع گئی ہے اور مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے اشیاءضرویہ کی قیمتوں میں اضافے کو روکنا بظاہرممکن نظرنہیں آرہا. ادھر تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور چاربرس کے دوران تیل نرخوں میں ریکارڈ کمی سامنے آ ئی ہے‘روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ سے عالمی معیشت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘ صدر پوٹن نے کہا کہ ابھی یہ اندازہ مشکل ہے کہ تیل نرخوں میں کمی کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا تاہم صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں تیاری کرنا ہوگی.المرصد کے مطابق تیل کے نرخ ایک برس کے دوران انتہائی نچلی سطح پر آ گئے ہیں جبکہ تیل نرخوں میں کمی کا چار سالہ ریکارڈ ٹوٹنے جا رہا ہے سب سے زیادہ بری صورتحال امریکی آئل مارکیٹ کی ہے جہاں کئی ریاستوں میں خام تیل کی قیمتیں35ڈالر فی بیرل تک گرگئی ہیں.ادھر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے باعث اپنے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو خبردار کیا ہے کہ کہیں کا بھی سفر نہ کریں یو اے ای کے محکمہ صحت نے خبردار کیا کہ جو افراد بیرونِ ملک کا سفر کررہے ہیں انہیں حکام کی صوابدید پر قرنطینہ کیے جاسکتے ہیں اس ضمن میں چین کے صوبے ہوبے سے نکالے گئے 215 غیر ملکیوں کو بھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے.علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایئرلائن امارات اور اتحاد ایئر لائن نے وائرس کے باعث بین الاقوامی سفر میں کمی کے باعث اپنے عملے کہ چھٹیاں لینے پر حوصلہ افزائی کی ہے جنوب مشرقی یورپی ملک بوسنیا میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوگئی.ریجنل وزارت صحت نے سرب ریپبلک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات پریس کانفرنس میں فراہم کرنے کا اعلان کیا چین کے بعد وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک جنوبی کوریا میں گیونگ سین نامی شہر میں ’خصوصی دیکھ بھال کے زون‘ قائم کردیے گئے ہیں.دوسری جانب امریکا نے بھی جنوبی کوریا میں موجود اپنے فوجی اہلکاروں میں 2 نئے کیسز کی تصدیق کردی ہے کورونا وائرس کے دنیا کے 80 ممالک تک پھیل جانے کے باعث ضروری اشیا مثلاً ٹائلٹ پیپرز، ہینڈ سینیٹائزر اور سرجیکل ماسکس کی بے تحاشہ خریداری ہونے سے رسد کی صورتحال بگڑ گئی.حکومتوں کی جانب سے افراتفری نہ پھیلانے کی اپیلوں کے باجود دکانوں اور مارکیٹ میں خالی شیلف مزید پریشانی کا سبب بن رہے ہیں آسٹریلیا کی سب سے بڑی سپر مارکیٹ میں ٹائلٹ پیپر کی خریداری پر ایک جھگڑے کے دوران چاقو نکل جانے پر پولیس بھی طلب کرلی گئی.دوسری جانب طبی ماہرین کی جانب سے بارہا اس بات کی تاکید کے صحت مند افراد کو ماسکس کی ضرورت نہیں امریکا، فرانس، برطانیہ سمیت وائرس سے متاثرہ تقریباً تمام ممالک میں ماسکس کی بے تحاشہ خریداری جاری ہے اس سلسلے میں لندن میں بھی ایک دفعہ استعمال ہونے والے سرجیکل ماسک کی قیمتوں میں 100 گنا سے زائد اضافہ ہوگیا.
دوسری جانب برطانیہ کی سب سے بڑی ایئر لائن کورونا وائرس کے باعث کاروبار پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے برطانوی فلائی بی بند کردی گئی فلائی بی کو گزشتہ برس کنیکٹ ایئرویز سے خریدا تھا اور اس وقت سے 2 ہزار ملازمین والی یہ ایئر لائن طلب میں کمی اور سخت مقابلے کے باعث خاطر خواہ منافع نہیں کما سکی.کمپنی کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق کمپنی انتظامی صورتحال میں داخل ہوگئی ہے اور مسافروں کے متبادل پروازوں کا انتظام نہیں کرسکتی.کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں سکولوں کو بند کیے جانے کے بعد تقریبا 30 کروڑ بچے دنیا بھر میں اسکول جانے سے محروم ہوگئے ہیں‘ نوول کورونا وائرس یا کووڈ-19 کے حظرے کے پیش نظر 13 ممالک نے سکول بند کیے جس کی وجہ سے 29 کروڑ 5 لاکھ بچے متاثر ہوئے جبکہ دیگر 9 ممالک نے مقامی سطح پر سکول بند کیے.
یونیسکو کے سربراہ اودرے آزولے کے مطابق عارضی طور پر بحران کے دوران سکولوں کی بندش کوئی نئی بات نہیں وہیں تاہم عالمی سطح پر اس تیزی سے تعلیمی رکاوٹ کا کوئی مثال نہیں اور اگر یہ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس سے تعلیم کے حق کو خطرہ پہنچے گا واضح رہے کہ بدھ کے روز اٹلی نے کورونا وائرس سے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 107 ہونے کے بعد سکولوں اور یونیورسٹیوں کو 15 مارچ تک بند رکھنے کا حکم جاری کیا تھا.جاپان میں وزیر اعظم شنزو آبے کی مارچ اور موسم بہار کی چھٹیوں کے درمیان تمام کلاسز منسوخ کرنے کی ہدایت پر تقریباً تمام سکول بند ہیں‘فرانس میں جہاں کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے ان علاقوں میں تقریباً 120 سکول بند ہیں‘پاکستان جہاں اب تک صرف 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، صوبائی حکومتوں نے سکولوں کی بندش کا اعلان کر رکھا ہے.چین سے سامان کی ترسیل میں تعطل کے باعث مغربی یورپ سے مشرقی ایشیا تک سپر مارکیٹوں کو چند ہفتوں سے ٹائلٹ پیپر اور ہینڈ سینیٹائزر کی سپائی بند ہوچکی ہے امریکی وزارت خزانہ نے سروے کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تاجروں میں اشیا تک رسائی کی تشویش بڑھ رہی ہے اور مجموعی طور پر معاشی صورتحال تشویش ناک ہے.جہاں امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے کانگریس کے قانون سازوں نے وبا سے لڑنے کے لیے 8 ارب ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے وائرس کا اثر سپلائی چین، اسٹاک مارکیٹ سے بھی کہیں زیادہ آگے ہے جہاں مالیاتی اداروں کی جانب سے خبردار کیا جارہا ہے کہ ممالک بحران کا شکار ہوسکتے ہیں.آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا جارجیوا نے کہا ہے کہ ایسی غیر یقینی صورتحال کے وقت میں ناکافی اقدامات کیے جانے سے بہتر ہے کہ زیادہ اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ یہ وبا عالمی مسئلہ ہے جس پر عالمی رد عمل درکار ہے‘جیسے جیسے یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل رہا ہے حکومتیں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر رہے ہیں.کئی ممالک بین الاقوامی سفر پر بھی کریک ڈاﺅن کر رہے ہیں‘یہاں تک کہ فلم انڈسٹری بھی اس وائرس سے متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے جیمز بانڈ کی نئی فلم کے پروڈیوسر نے فلم کی ریلیز کی تاریخ بڑھادی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں