In support of the police! 21

کچھ پولیس کی حمایت میں!

محرم کے دس دن خیرو عافیت سے گذر گئے۔ یوم عاشور پر بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ پنجاب میں پولیس اور انتظامیہ کی کوششیں رنگ لائیں اور یوم عاشور کے ہزاروں ماتمی جلوسوں کے باوجود امن و امان کی فضا قائم رہی۔مَیں خاص طور پر پولیس کے افسروں اور جوانوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں،جنہوں نے سخت گرمی کے باوجود اپنے فرائض خوش اسلوبی اور جاں فشانی سے ادا کئے۔ پولیس جب اچھے کام کرتی ہے تو اُس کی ستائش میں بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔ سابق آئی جی اور مفکر و دانشور مرحوم سردار محمد چودھری کہتے تھے کہ پولیس اچھے کاموں کا پہاڑ بھی کھڑا کر دے تو کسی کو نظر نہیں آتا۔البتہ کوئی ایک بُرا کام سرزد ہو جائے تو اُس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔مجھے ان کی یہ بات آج کے تناظر میں اِس لئے بھی یاد آئی کہ آج کل پولیس کے خلاف کیا کچھ نہیں کہا جا رہا۔سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا، پولیس کے بارے میں بُرے القابات حتیٰ کہ مغلظات سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔بعض عقل کے اندھے تو یہ مہم بھی چلا رہے ہیں پولیس کا محکمہ ہی ختم کر دیا جائے۔آج کل نئی پرانی وڈیوز تلاش کر کے سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کی جا رہی ہیں،پنجاب پولیس کی وردی کب کی بدل چکی ہے، مگر وہی کالی وردی دکھا کر پولیس کے مظالم کو اُجاگر کیا جا رہا ہے۔مَیں بھی پولیس کا بہت بڑا ناقد ہوں اور اپنے حالیہ چند کالموں میں اس کے مظالم پر سخت نکتہ چینی کر چکا ہوں،لیکن مَیں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ محکمہ پولیس بطور ادارہ ناکارہ ہو چکا ہے یا وہاں قانون اور اخلاق نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ حالیہ دِنوں میں جو سنگین واقعات ہوئے، اُن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی، مقدمات درج ہوئے،نوکریوں سے ہٹایا گیا، گرفتار کر کے حوالات میں بند کئے گئے۔آئی جی پنجاب نے آئندہ کے لئے ایس او پی بھی جاری کر دیئے کہ کسی پر تشدد کیا گیا یا کسی کی جان گئی تو متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او اور ضلع کا ڈی پی او اُس کے ذمہ دار ہوں گے اور اُن کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔

بلاشبہ صلاح الدین کیس پولیس کی سخت نااہلی اور غیر پیشہ ورانہ سوچ کے باعث رونما ہوا۔اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ صلاح الدین کے ساتھ ہی وہ سارے راز بھی دفن ہو گئے جو اُس کے سینے میں موجود تھے۔اب ایسی کئی وڈیوز سامنے آ چکی ہیں،جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کا کام بہت عرصے سے کر رہا تھا اور خاصا ماہر اور شاطر تھا، پولیس اگر مار دھاڑ کے ذریعے اُس کی جان نہ لیتی اور سینئر افسران کی ٹیم اُس سے ماہرانہ انداز میں تفتیش کرتی تو یہ پولیس کے کریڈٹ پر ایک بڑی تفتیش کہلاتی،مگر اب صلاح الدین کا کوئی راز سامنے نہیں آیا، اُلٹا پولیس قتل کے الزام میں ملوث ہو کر عوام کی نفرت کا نشانہ بن گئی۔مَیں نے1991ء میں سردار محمد چودھری کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا۔اُس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ پنجاب پولیس خوف کی علامت کیوں بن گئی ہے؟انہوں نے برجستہ کہا تھا کہ پولیس کو خوف کی علامت ہونا چاہئے،لیکن عام شہریوں کے لئے نہیں،بلکہ چوروں،ڈاکوؤں، قاتلوں اور لوٹ مار کرنے والوں کے لئے،پھر انہوں نے ایک باریک نکتہ یہ بیان کیا کہ معاشرے میں جو مافیاز موجود ہیں،وہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے پولیس کو عوام کی نظر میں گرانا چاہتے ہیں،کیونکہ ایک مضبوط اور عوامی اعتماد کی حامل پولیس اُن کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے۔وہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے کسی غریب آدمی کو آگے کر دیں گے،پولیس جب اُس کے خلاف کارروائی کرے گی تو اُس کی مظلومیت کا واویلا کر کے پولیس کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ میڈیا بات کی تہہ تک نہیں پہنچتا، بس اُسے پولیس ایک آسان ہدف نظر آتا ہے،اِس لئے سارا زور اُسے بدمعاش اور ظالم ثابت کرنے پر لگا دیتاہے۔سردار محمد چودھری چونکہ پولیس کی اصلاح کے سب سے بڑے داعی تھی،اِس لئے وہ لگی لپٹی رکھے بغیر سب کچھ کہہ جاتے تھے۔اب اُن کی اِس بات میں وزن ہے کہ پولیس کا خوف معاشرے میں موجود رہنا چاہئے۔آج کے حالات میں اگر ہم کہیں کہ پولیس بالکل چوڑیاں پہن کر بیٹھ جائے، اور ڈاکوؤں، لٹیروں، چوروں، بھتہ خوروں اور ظالموں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لے،انہیں پکڑنے جائے، وہ مزاحمت کریں تو خاموش واپس لوٹ آئے، کسی عادی قاتل، چور اور ڈاکو سے تفتیش کرتے ہوئے اُف تک نہ کرے تو پھر کسی پر کیا خوف رہ جائے گا۔

یورپ یا امریکہ میں جب، کسی ملزم کو سربازار پکڑتی ہے اور اُس کی مزاحمت پر اُسے کس طرح زمین پر لٹا کر رگیدتی ہے،اس کے مناظر اُن وڈیوز میں عام دیکھے جا سکتے ہیں، جو لوگوں نے ایسے واقعات پر بنائیں، نہ وہاں میڈیا چیختا ہے اور نہ اردگرد کھڑے لوگ احتجاج کرتے ہیں،بلکہ اُلٹا پولیس کے کردار کو سراہتے ہیں،پولیس کو کمزور نہ کریں،بلکہ اُسے قانون کا پابند بنائیں،مثلاً موٹروے پولیس ہے، اُس کا خوف سب میں موجود ہے، ڈرائیونگ کی ذرا سی خلاف ورزی آپ کو جرمانے کا سزا دار بنا سکتی ہے،چاہے آپ کوئی بھی ہوں۔ایک بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ پنجاب پولیس میں مجرموں کے خلاف لڑنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پولیس ڈاکوؤں سے مقابلے میں پیچھے ہٹ گئی ہو۔پولیس کے سینکڑوں جوانوں اور افسروں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔اُن کی قربانیوں کو سراہنا چاہئے۔ بحیثیت ادارہ پولیس کو معتوب قرار دینا مناسب نہیں، ہاں اس میں ایسے عناصر موجود ہیں جنہیں اب کالی بھیڑیں کہا جانے لگا ہے،ایسے عناصر کی پولیس سے چھانٹی بہت ضروری ہے۔اگر آئی جی عارف نواز خان نے یہ طے کر لیا ہے کہ کوئی پولیس مظالم کا مرتکب اہلکار محکمے میں نہیں رہے گا تو انہیں اس فہرست کو ذرا آگے بڑھانا چاہئے۔اسی کے ساتھ ساتھ رشوت خوری، ناجائز پرچوں، غلط تفتیش اور غلط پراسیکیوشن میں ملوث اہلکاروں کو بھی نشانِ عبرت بنانا چاہئے۔

مَیں پولیس کا بطور ادارہ حامی ہوں،اس کی اشد ضرورت ہے اور یہ ناگزیر محکمہ ہے،مگر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اچھے افسران اور اچھے ماتحتوں کی اکثریت ہونے کے باوجود اس محکمے کا تاثر منفی بن گیا ہے۔اتنی قربانیاں دینے والے ادارے پر تو لوگوں کو اندھا اعتماد اور بے مثال اعتقاد ہونا چاہئے۔یہاں معاملہ اُلٹا ہے،کیا پولیس کو بہتر بنانے کی لہر اس محکمے کے اندر سے نہیں اُٹھ سکتی۔کیا یہ پیٹی بھائی کو بچانے یا اُس کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کا گھناؤنا کلچر ختم نہیں ہو سکتا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی تھانے میں کوئی بے گناہ موجود ہو اور ایس ایچ او کے سوا باقی کسی کو علم نہ ہو،یہ بھی کیسے ممکن ہے کہ ایس ایچ او یا انسپکٹر نے اپنا ناجائز عقوبت خانہ بنایا ہو، اور تھانے کے دیگر ملازمین کو علم نہ ہو۔ایک مچھلی اگر اپنے عمل سے تالاب کو گندہ کر رہی ہے تو اُس کی نشاندہی ہونی چاہئے،جس دن خود پولیس والوں کے اندر اپنے ادارے کی حرمت اور توقیر برقرار رکھنے کا جذبہ پیدا ہو گیا، اُس دن پولیس کی خودبخود اصلاح ہو جائے گی۔ جس دن پولیس والوں نے تشدد کو طاقت سمجھنے کی بجائے قانون کو اپنی طاقت بنا لیا،اُس دن ہماری پولیس بھی ایک آئیڈیل پولیس بن جائے گی۔
بشکریہ: نسیم شاہد

اپنا تبصرہ بھیجیں