25

بھارت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ذلت اور رسوائی کا سامنا

قاسم خان سوری کی کشمیر میں مظالم پر تقریر کے دوران ہندوستانی وفد بھڑک اٹھا، بھارتی پارلیمنٹیرین وجے جولی کو سیکورٹی اسٹاف نے تقریب سے باہر نکال دیا
پنوم پن (19 نومبر 2019ء) : قاسم خان سوری کی کشمیر میں مظالم پر تقریر کے دوران ہندوستانی فد سے جھڑپ ہوئی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹیرین وجے جولی کو سیکورٹی اسٹاف نے تقریب سے باہر نکال دیا۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کمبوڈیا کے دارالحکومت پنوم میں جاری ایشیائی پیسیفک سمٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران قاسم سوری کو تقریب سے اظہار خیال کرنے کی دعوت دی گئی جہاں بھارت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے جب اپنی تقریر کے دوران کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم پر سوال اٹھایا تو وہاں پر موجود ہندوستانی وفد آپے سے باہر ہو گیا۔بھارتی وفد نے قاسم خان سوری کی تقریر روکنے کی کوشش کی۔
بھارتی پارلیمنٹیرین وجے جولی نے قاسم سوری کی تقریر کے دوران سب سے زیادہ شور مچایا جنہیں سیکورٹی اسٹاف نے باہر نکال دیا۔جب کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپنی تقریر کو جاری رکھا اور کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا۔
۔جب کہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جموں خطے میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے خلاف نمائش گرائونڈ جموں میں ایک بڑا حتجاجی مظاہرہ ہوا۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نیشنل پینتھرس پارٹی کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ اور یشپال کنڈل کی قیادت میں مظاہرین نے گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے خطے میں انٹرنیٹ سروسز کو معطل کرنے پر بھارتی حکومت کی مذمت کی ۔ ہرش دیو سنگھ نے انٹرنیٹ کو معطل کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کو ظالمانہ اقدام قراردیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوام کو پتھر کے دور میں دھکیلا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموں کے لوگوں پر ظالمانہ پالیسی کیوں نافذ کی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ مواصلاتی ذرائع کی معطلی سے عوام کو اظہارائے کی آزادی کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے جس کی ضمانت بھارت کے آئین میں دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں