8

اسلام آباد ایئر پورٹ کسی بھی وقت گر سکتا ہے،دنیا بھر کا اسلحہ باآسانی وہاں پہنچ جائے

ایئر پورٹس پر فلائٹس کی تاخیر اور مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ہے جس پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹ کو جس طرح بنایا ہے، یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے انتظامات بھی قابل تسلی نہیں، یہاں کسی بھی قسم کا اسلحہ با آسانی لایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں کسی قسم کی کوئی ویڈیونہیں بنائی جاتی جس کی وجہ سے پتہ نہیں چلتا کہ کون آ رہا ہے اور کیا لے کرآرہا ہے۔کیس کی سماعت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں دنیا بھر کا اسلحہ با آسانی لایا جا تا ہے۔ایئر پورٹ حکام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں کسی قسم کی کوئی فوٹیج نہیں بنتی جس کا مطلب ہے کہ چرس پکڑی جائے یا کرنسی، کوئی فوٹیج سامنے نہیں آتی
چیف جسٹس کی جانب سے اس بات کا ذکر بھی کیا گیا کہ ایئر پورٹ کو جس طرح بنایا گیا ہے، یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔اس کی عمارت اس قابل نہیں کہ زیادہ دیر تک ٹک سکے۔پروازوں کی تاخیر اور مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا تاخیر کی صورت میں مسافروں کے لئے آرام یا انتظار کرنے کی جگہ موجود ہیں؟ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ایئر پورٹ کی حالت ایسی نہیں کہ زیادہ دیر تک قائم رہے، یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی سیکیورٹی کے انتظامات ہیں جس کی وجہ سے یہاں دنیا بھر کا اسلحہ لایا جاتا ہے، فوٹیج نہ بننے پر برہم ہوتے ہوئے چیف جسٹس کی جانب سے کہا گیا کہ یہاں چرس پکڑی جاتی ہے، کرنسی پکڑی جاتی ہے،لیکن کسی قسم کی کوئی ویڈیو نہیں بنائی جاتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں