Maulana Fazlur Rehman 10

آزادی مارچ کو اسلام آباد داخلے کی اجازت دی جائے لیکن وزیراعظم عمران خان کو اس پر کس نے راضی کیا؟ سینئر صحافی نے اندر کی بات بتادی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جے یوآئی کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مار چ اسلام آباد میں داخل ہوگیا ہے اور اس سے قبل حکومتی عہدیدار یہ دعویٰ بھی کرتے رہے کہ مولانا کو اسلام آباد نہیں پہنچنے دیا جائے گا، حکومت نے چاہا تو انہیں ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی نہیں نکلنے دیا جائے گا لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو راضی کیا گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے دیا جائے ۔

ایکسپریس پی کے کیلئے احتشام بشیر نے لکھا کہ ” بعض حکومتی شخصیات نے وزیراعظم عمران خان کو راضی کیا کہ مذاکرات کے ذریعے آزادی مارچ کو اسلام آباد آنے کی اجازت دے دی جائے لیکن ریڈ زون میں داخل ہونے نہ دیا جائے۔

حکومت کی جانب سے وزیر دفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی بنی اور اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں طے پایا کہ آزادی مارچ کے تحت پشاور موڑ پر جلسہ ہوگا لیکن یہ مارچ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوگا۔ اس کے بعد مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبر کو کراچی سے آزادی مارچ کا قافلہ لے کر اسلام آباد کےلیے روانہ ہوئے جس کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں سے قافلے بھی اسلام آباد کےلیے روانہ ہونے لگے۔

جے یو آئی کے سربراہ کی یہ کوشش تھی کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک ساتھ اسلام آباد میں داخل ہوں لیکن اے این پی اسلام آباد پہنچنے میں بازی لے گئی۔ جے یو آئی کے قافلوں کے پہنچنے تک پنڈال میں اے این پی کے سرخ جھنڈے لہراتے رہے۔ اسی طرح قومی وطن پارٹی، مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی بھی اسلام آباد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔

خیبرپختونخوا سے جے یو آئی کے قافلے میں جان ڈالنے والے رہبر کمیٹی کے چیئرمین اکرم خان درانی تھے جو جنوبی اضلاع کا قافلہ لے کر بنوں سے چلے اور 9 گھنٹوں میں پشاور پہنچے۔ اکرم خان درانی کے قافلے کا موٹر وے پر چار گھنٹے انتظار کیا گیا اور ایک طویل قافلہ اسلام آباد میں رات گئے داخل ہوا۔ آزادی مارچ کے شرکاء جس تیاری کے ساتھ آئے ہیں، وہ چند دن کی نظر آرہی ہے لیکن ان کا پڑاؤ طویل ہوسکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان اپنی حکمت عملی کے تحت اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ حکومتی مذاکرات کی کامیابی جے یو آئی کےلیے ٹرننگ پوائنٹ تھی۔ جے یو آئی کی کوشش تھی کہ وہ ایک بار اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوجائیں، اسلام آباد میں داخل ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کھلے لفظوں میں بتادیا ہے کہ ان کا جلسہ بھی ہے اور دھرنا بھی؛ وہ یہاں بیٹھنے کےلیے آئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ ان کا ایجنڈا ہے، وہ زور سے استعفیٰ لے کر جائیں گے۔

جے یو آئی کے حلقوں کی جانب سے جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں، ان کے مطابق منصوبہ بندی ڈی چوک تک پہنچنے کی گئی ہے اور ڈی چوک کی جانب مارچ کا اعلان دو سے تین روز میں متوقع ہے۔ اگر یہ صورتحال بنتی ہے تو پھر معاملات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت کسی صورت بھی آزادی مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہونے نہیں دے گی۔

اس تمام صورتحال میں تاریخ دہرائی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے جب نواز حکومت کے خلاف مارچ کیا تو اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نواز شریف کو یقین دلایا تھا کہ عمران خان کو آنے دیا جائے، جلسے کے بعد وہ منتشر ہوجائیں گے لیکن وہ جلسہ بھی دھرنے میں تبدیل ہوگیا اور اب وزیر دفاع پرویز خٹک عمران خان کےلیے چوہدری نثار ثابت ہو رہے ہیں۔ جے یو آئی کے بعض عہدیداروں کے مطابق معاہدہ جلسے کا ہوا تھا، ہم نے جلسہ کرلیا۔ جلسے کے بعد ہمیں کہاں جانا ہے، اس کا تو معاہدے میں ذکر نہیں۔

بظاہر اسلام آباد کی صورتحال بہتر نظر نہیں آرہی۔ حکومتی حلقوں میں بھی اب پریشانی دیکھی جارہی ہے۔ حکومت مولانا فضل الرحمان کو دوبارہ راضی کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن یوں لگتا ہے جیسے مولانا فضل الرحمان دھرنا دینے میں بضد رہیں گے۔ اب حکومت سمیت تمام سیاسی حلقوں کی نظریں مولانا فضل الرحمان کے آئندہ لائحہ عمل پر لگی ہوئی ہیں۔

جس تیاری سے جے یو آئی کے کارکنان اسلام آباد پہنچے ہیں، انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنا بھی مشکل کام ہوگا۔احتجاج کی سیاست پُرتشدد احتجاج میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگ

اپنا تبصرہ بھیجیں