tick tok 11

لیڈی کانسٹیبل ٹک ٹاک ویڈیو لیک ہونے پر ملازمت سے برطرف

لاہور میں لیڈی کانسٹیبل کو ٹک ٹاک پر ویڈیو وائرل ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق آج کل کے دور میں نوجوان نسل جدید موبائل فونز کو پسند کرتی ہے اور پھر اپنا دل بہلانے کے لیے کئی ایپلی کیشنز بھی موبائل فونز میں انسٹال کرتی ہے۔ڈب سمیش کے بعد ٹک ٹاک ایپلی کیشن نے سب کو اپنا دیوانہ بنا لیا۔
آج کل کی نوجوان نسل میں تو کیا ہر عمر کے اسمارٹ فون صارف کے موبائل میں ٹک ٹاک ایپلی کیشن موجود ہے جس پر سب ڈبنگ کر کے اپنی ویڈیوز بناتے اور اپ لوڈ کرتے ہیں۔ جبکہ کئی پولیس افسران اور سرکاری اہلکاروں کی بھی آن ڈیوٹی ٹک ٹاک ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ حال ہی میں لیڈی کانسٹیبل بھی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

پنجاب پولیس کی لیڈی کانسٹیبل وفا توقیر کا مشغلہ گانوں پر ٹک ٹاک ویڈیو بنانا تھا لیکن کانسٹیبل کی ویڈیو وائرل ہوئی تو افسران غصے میں آ گئے جس کے بعد ڈی ایس پی پی عہدے کے افسر نے انکوائری کی اور الزام درست ثابت ہونے پر فوری طور پر خاتون کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔برطرفی کے بعد لیڈی کانسٹیبل وفا توقیر بھی غصے میں آگئی اور الزام لگایا کہ محکمہ نے ان پر ظلم کا پہاڑ توڑا ہے ،ویڈیو کا شوق ضرور ہے لیکن انہیں صرف اپنے موبائل میں رکھتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو آٹھ ماہ قبل ٹریننگ کے دنوں میں بنائی تھی کس نے لیک کی یا کرائی معلوم نہیں۔واضح رہے اس سے قبل ٹک ٹاک کی ویڈیو بنانے پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ کمشنر محمود جاوید بھٹی کی ویڈیو ٹک ٹاک پر وائرل کرنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم اشرف عرف لکی کموکا کے خلاف مقدمہ وفاق تحقیقاتی ایجنسی نے اسسٹنٹ کمشنر کی مدعیت میں درج کیا ۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم اشرف عرف لکی کموکا نے بغیر اجازت کمشنر کی ویڈیو بنائی اور بیک گراؤنڈ میں میوزک لگا کر اسے ٹک ٹاک پر وائرل کی گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں