17

لاہور میں مالش کی آڑ میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے شرمناک کاموں میں ملوث ہونے کا انکشاف

لاہور (13 نومبر 2019ء) : لڑکیوں کے بعد اب لڑکوں کا بھی جسم فروشی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے باقاعدہ ریٹس طے کیے جاتے ہیں۔اسی دھندے میں ملوث ایک نوجوان نے شرمناک انکشافات کیے ہیں جس کا تعلق پشاور سے ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں نوجوان کا کہنا ہے کہ میں مالش کرنے کا کام کرتا تھا، جب سے مالش کا کام شروع کیا تب سے چرس بھی پینا شروع کی۔
میری عمر 23 سال ہے۔مجھ سے مساج کروانے کے لیے لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی آتی ہیں۔لڑکیاں لڑکے مساج کروانے کے لیے ہمیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔امیر امیر لوگ بھی اکثر 15 سال کے عمر لڑکوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور غلط کام کرواتے ہیں۔نوجوان کا کہنا ہے کہ ایسا کام کرنے سے انکار پر اِن لوگوں کی طرف سے ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے،ایک بار میں نے انکار کیا تو مجھے چھریاں ماری گئیں۔
نوجوان کا کہنا ہے کہ صرف مالش کرنے کے 500 روپے دئیے جاتے ہیں جب کہ غلط کام کرنے کے دو ہزار روپے دئیے جاتے ہیں۔کبھی کبھی پولیس و الے بھی ہمیں اٹھا کر لے جاتے ہیں پھر ہمیں اُنہیں بھی دو دو گھنٹے دبانا پڑتا ہے،نوجوان کا کہنا ہے کہ مجھے اس کام کے لیے پانچ چھ سال قبل مجبور کیا گیا تھا۔ان سالوں میں تو میں چرس کا بھی عادی ہو گیا۔نوجوان کا کہنا ہے کہ ایک شخص مجھے ڈیفینس لے کر گیا وہاں مجھے پانچ ہزار روپے دئیے۔
جب نوجوان سے سوال کیا گیا کہ آپ کوئی اور ملازمت کیوں نہیں کرتے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے نوجوان کا کہنا تھا کہ اس دھندے میں پیسہ زیادہ ملتا ہے اس لیے یہ کام کرتا ہوں۔میرے ساتھ ساتھ اور بھی کم عمر لڑکے اس کام میں ملوث ہیں۔نوجوان نے غلیظ دھندے سے متعلق مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے:

اپنا تبصرہ بھیجیں