33

کوئی نہیں جانتا کہ بھارتی جھیل کے پاس ہزاروں پرندے کیسے مرے

بھارت میں جنگلی حیات کے ماہرین ملک کی سب سے بڑی جھیل کے پاس مرنے والے ہزاروں پرندوں کی موت کا پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس وقت جھیل کے پاس مرنے والے پرندوں کی تعداد دو ہزار ہو گئی ہے۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ پانچ ہزار تک ہو سکتی ہے۔مرے ہوئے پرندے جھیل کے پاس پندرہ سے بیس کلومیٹر کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔
بھارت کے شہر جے پور سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع سامبھر جھیل بھارت کی سب سے بڑی نمکین پانی کی جھیل ہے۔

یہاں کافی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ یہ جھیل ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کا بھی ٹھکانہ ہے۔ پچھلے اتوار کو مقامی افراد نے حکام کو مطلع کیا کہ جھیل کے کنارے پر ہزاروں پرندے مردہ پڑے ہیں، جن میں سے کچھ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔شروع میں لوگ ان مردہ پرندوں کو گائے کا گوبر سمجھے لیکن جلد ہی معلوم ہو گیا کہ یہ مردہ پرندے ہیں۔
مرنے والے پرندوں کا تعلق دس سے زیادہ انواع سے ہے۔

ابھی تک کوئی نہیں بتا سکتا کہ یہ پرندے کیسے مرے ہیں۔ اس حوالے سے کئی نظریات پیش کیے جا رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے آنے والا طوفان پرندوں کی موت کی وجہ بنا جبکہ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ پرندوں نے قریبی کھیتوں میں زہر لگے بیج کھائے، جس کے باعث وہ فوراً مر گئے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرندے کسی وبائی مرض کی وجہ سے مرے ہیں، جبکہ کچھ ماہرین جھیل کے پانی کو زہریلا قرار دے رہے ہیں۔
مقامی حکام نے مردہ پرندوں کے کچھ نمونے بھوپال کی لیبارٹری میں بھجوا دئیے ہیں جبکہ مقامی افراد باقی پرندوں کو جمع کر کے گڑھوں میں دفنانے میں مصروف ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں