14

دنیا میں کورونا سے ایک لاکھ85ہزار166اموات

دنیا میں کورونا وائرس ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب یہ معاملہ سیاسی بنتا جارہا ہے اس معاملے پر جہاں امریکا اور چین آمنے سامنے ہیں وہیں یورپی ممالک امریکا کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں. دنیاکے 210ممالک میں اب تک ایک لاکھ85ہزار166اموات ہوچکی ہیں جبکہ 26لاکھ 56ہزار622مصدقہ کیس سامنے آچکے ہیں جبکہ پاکستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اب تک وائرس سے224ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور 10ہزار 513کیس ہیں جن میں سے 7ہزار952مصدقہ کیس ہیں کے پی کے میں سب سے زیادہ83‘سندھ میں 69‘پنجاب میں 58‘بلوچستان میں 8 جبکہ اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں تین‘تین ہلاکتیں ہوئی ہیں .
ادھر عالمی ادارہ صحت پر امریکی صدر کی تنقید کے بعد چین نے ڈبلیو ایچ او کے لیے تین کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے چین نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کو کورونا وائرس کے خلاف عالمی لڑائی میں مدد کے لیے مزید3 کروڑ ڈالر دے گا . چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے چین نے کوویڈ 19 کے خلاف عالمی لڑائی اور ترقی پذیر ممالک میں صحت کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ڈبلیو ایچ او کو دو کروڑ ڈالر کی سابقہ امداد کے علاوہ مزید تین کروڑ ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی کے لیے چین کی امداد ڈبلیو ایچ او پر چینی حکومت اور عوام کی حمایت اور اعتماد کی عکاسی کرتی ہے واضح رہے کہ امریکہ، جو عالمی ادارہ صحت کو سب سے زیادہ امداد دیتا ہے، گذشتہ ہفتے ادارے پر کورونا وائرس کے بحران سے صحیح انداز میں نہ نمٹنے کا الزام لگا کر اپنی امداد کو روک چکا ہے . حالانکہ اس وقت کووڈ 19 سے امریکہ اور یورپ سب سے زیادہ متاثرہ ہیں یورپ میں ایک لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ امریکہ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے 8 لاکھ کے قریب ہے.
برطانیہ کے مشیر صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں سماجی پابندیاں کم از کم ایک سال تک برقرار رہ سکتی ہیں . امریکی ایوان نمائندگان کے ممبران کورونا وائرس کے لیے 484 ارب ڈالر کے امدادی پیکچ کی منظوری کے لیے جمعرات کے روز واشنگٹن میں جمع ہوں گے اس امدادی پیکج کی منظوری کے بعد کورونا کے بحران سے نمٹنے کے لیے فنڈ تقریباً 30 کھرب ڈالر ہو جائے گا.
امریکی سینیٹ، جہاں ریپبلکن کی اکثریت ہے، نے اس بل کو منظور کیا ہے تاہم ایوان سے منظوری کے بعد اس بل کو وائٹ ہاﺅس بھیجا جائے گا جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد از جلد اس پر دستخط کرنے کا وعدہ کیا ہے. یہ امدادی پیکج کورونا وائرس کے بحران سے متاثر ہونے والے چھوٹے کاروبار اور ہسپتالوں میں تقسیم کیا جائے گاواضح رہے کہ امریکہ میں اب تک کورونا وائرس سے 45 ہزار افراد ہلاک جبکہ دو کروڑ سے زائد بے روزگار ہو چکے ہیں.
جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا یورپ کے لیے دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا چیلنج ہے‘ہمیں اپنے عوام کی زندگی اور موت کے مسئلے کا سامنا ہے جرمن چانسلر نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم تیزی سے محفوظ زندگی کی جانب لوٹ سکتے ہیں . انہوں نے کہا کہ یہ نظم و ضبط بار بار لاک ڈاﺅن ختم کرنے اور پھر بحال کرنے کے فیصلوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے‘انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم جو حاصل کر چکے ہیں، اسے ضائع نہ ہونے دیں .
انجیلا مرکل نے کہا کہ یورپی ممالک کو چاہیے کہ وہ عالمی رسد پر انحصار کرنے کی بجائے خصوصی میڈیکل کِٹ کی تیاریوں میں مہارت حاصل کریں‘جرمن چانسلر نے اپنے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے اگلی لہر کا سامنا کرنے کے لیے محتاط اور مستعدرہیں . جرمن پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ آخری مرحلہ نہیں بلکہ محض ایک آغاز ہے ہم ایک طویل عرصے تک اس کے ساتھ رہیں گے ‘لاک ڈاﺅن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ پابندیاں سخت ہیں یہ جمہوریت کے لیے ایک چیلنج ہیں اور یہ ہمارے جمہوری حقوق محدود کر رہی ہیں .
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوری شفافیت جیسے کہ آزادی صحافت نے صورتحال کو قابل برداشت بنانے میں مدد کی ہے‘یہ شاندار بات ہے کہ جرمن عوام نے اس صورتحال میں معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ قابلِ تعریف ہے . ادھر توقع کی جا رہی ہے کہ ویڈیو کانفرنس میں یورپی یونین کورونا وائرس کے بحران سے متاثرہ ممالک کے لیے آج ایک بڑے امدادی پیکیج پر دستخط کرے گی 500 ارب کے اس امدادی پیکج پر اتفاق یورپی یونین کے شمال میں امیر ممالک اور جنوب کی کمزور معیشتوں کے مابین تلخ کلامی کے بعد کیا گیا تھا .

اپنا تبصرہ بھیجیں