33

پاکستان میں گیس کے بڑے ذخائر ملنے کا امکان

پاکستان میں گیس کے بڑے ذخائر ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان گیس درآمد بھی کرتاہے۔حکومت ملک میں پیدا ہونے والی گیس کی لاگت می 100 فیصد اضافے کے ساتھ عوام کو فروخت کر رہی ہے۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان درآمدی گیس سے اپنی ضروریات پوری کر رہا ہے لیکن اب امید ہے کہ آنے والے دنوں میں گیس کے بڑے ذخائر دریافت کر لیے جائیں گے۔
پاکستان پٹرولیم لمٹیڈ جو کہ سرکاری سطح پر تیل اور گیس کی تلاش کا عمل کرتی ہے،اس کے زیر ملکیت بلوچستان میں مارگینڈ بلاک سے 10 کھرب مکعب فٹ گیس کے ذخائر دریافت ہونے کا امکان ہے۔اس حوالے سے پی پی ایل پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں مارگینڈ ایکس ون بلاک سے پائیڈرو کاربن دریافت ہوئی ہے تاہم کمپنی نے ان ذخائر کے اصل سائز کا اعلان نہیں کیا۔
بتایا گیا ہے کہ 30جون 2019ء کو مارگینڈ ون میں کھدائی کا آغاز کیا گیا تھا۔4500 میٹر گہرائی میں ماڈیولز ڈائنامکس ٹیسٹنگ ایم ڈی ٹی سے ہائیڈرو کاربن کی موجودگی کے شواہد ملے۔کنویں کے ڈرل اسٹیم ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ایک دن کی پیدوار 10.7 ملین مکعب فٹ گیس اور 132 بیرل مائع ہوسکتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ گیس کے ذخائر سے متعلق حتمی اعداد و شمار کنویں کی کھدائی مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکیں گے۔
اس حوالے سے کمپنی کی جانب سے ابتدائی بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مارگینڈ بلاک کی ساخت پر مبنی ابتدائی تخمینے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس بلاک میں ایک کھرب مکعب فٹ ذخائر موجود ہیں تاہم مزید کنویں کھودنے سے اس اندازے کی تائید ہو سکے گی،یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ گذشتہ 15 سال میں دریافت ہونے والے یہ گیس کے سب بڑے ذخائر ہیں۔اس سے ایل این جی کم درآمد کرنی پڑے گی اور ملک کو900 ملین ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں