25

چینی برآمدگی کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ سامنے انے کے بعد وزیراعظم نے ایک اور اعلان کردیا

چینی برآمدگی کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ سامنے انے کے بعد وزیراعظم نے ایک اور اعلان کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وعدے کے مطابق گندم اور چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی تحقیقاتی رپورٹ بغیر ردوبدل پبلک کردی ہے، تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
واضح رہے کہ حکومت نے کل چینی اور آٹا بحران پر تحقیقاتی رپورٹ پبلک کردی تھی جس کے مطابق جہانگیرترین اور خسروبختیار فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے جبکہ چوہدری برادران، مریم نواز کے سمدھی، شریف برادران اور آصف زرداری نے بھی فائدہ اٹھایا۔ اب وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ”گندم اورچینی کی قیمتوں میں یک لخت اضافےکی ابتدائی تحقیقات وعدےکیمطابق فوراً بلا کم و کاست جاری کردی گئی ہیں۔
تاریخ میں اسکی نظیر نایاب ہے۔ذاتی مفادات کی آبیاری اورسمجھوتوں کی رسم نےماضی کی سیاسی قیادت کواس اخلاقی جرات سےمحروم رکھاجسکی بنیادپروہ ایسی رپورٹس کےاجراءکی ہمت کر پاتیں”۔

گندم اورچینی کی قیمتوں میں یک لخت اضافےکی ابتدائی تحقیقات وعدےکیمطابق فوراً بلا کم و کاست جاری کردی گئی ہیں۔ تاریخ میں اسکی نظیر نایاب ہے۔ذاتی مفادات کی آبیاری اورسمجھوتوں کی رسم نےماضی کی سیاسی قیادت کواس اخلاقی جرات سےمحروم رکھاجسکی بنیادپروہ ایسی رپورٹس کےاجراءکی ہمت کر پاتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ” میں کسی بھی کارروائی سے پہلے اعلیٰ سطحی کمیشن کی جانب سے مفصل فرانزک آڈٹ کے نتائج کا منتظر ہوں جو 25 اپریل تک مرتب کرلئے جائیں گے۔
ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی طاقتور گروہ (لابی) عوامی مفادات کا خون کرکے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گا، انشاءاللہ”۔ خیال رہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی برآمد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، برآمدکنندگان نے صورتحال سے دوہرا فائدہ اٹھایا ہے، پہلے سبسڈی حاصل کی اور پھر مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھا کر بھاری منافع بھی کمایا ۔
چینی کی قیمت دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک بڑھا دی گئی تھی حالانکہ جی ایس ٹی میں اضافہ کا اطلاق یکم جولائی 2019 میں ہوا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2019 میں چینی کی برآمد کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں قیمت فوراً بڑھنا شروع ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد پرحکومت کی جانب سے سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والوں میں مخدوم عمر شہریار ( مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار) کا ملکیتی آر وائے کے گروپ شامل ہے جس نے مجموعی برآمدی سبسڈی کا 15.83 فیصد حاصل کیا جو 3.944 ارب روپے بنتا ہے۔
چوہدری منیر اور مونس الٰہی بھی اس گروپ میں پارٹنرز ہیں۔ اسی طرح جہانگیر خان ترین کے جے ڈی ڈبلیو گروپ نے برآمدی سبسڈی کا 12.8 فیصد حاصل کیا جو 3.058 ارب روپے ہے۔ ہنزہ شوگر ملز نے 11.56 فیصد سبسڈی حاصل کی جو 2.879 ارب روپے ہے، ان شوگر ملز کی ملکیت محمد وحید چوہدی، ادریس چوہدری اور سعید چوہدری کے پاس ہے۔ شریف فیملی کی ملکیتی شوگر ملز نے مجموعی برآمدی سبسڈی کا 5.9 فیصد حاصل کیا جو 1.472 ارب روپے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں