pregnant woman 16

ہسپتال میں داخل نہ کرنے پرحاملہ خاتون نے گیٹ پررکشہ میں ہی بچے کوجنم دےدیا

عمرکوٹ( سید ریحان شبیر )چراغ تلے اندھیراحاملہ خاتون کو اسپتال میں ایمرجنسی میں داخل نہ کرنےپر حاملہ خاتون نے شدید درد اورتکلیف اسپتال کےگیٹ پر رکشہ میں بچے کوجنم دےدیا تفصیلات کےمطابق حکومت سندھ کے ماتحت چلنے والا محکمہ پی پی ایچ آئی نے بجٹ کا جواز بنا کر رات کوحاملہ مریضہ شریمتی میناکواسپتال میں داخل کرنے سے منع کردیا حاملہ مریضہ نے پی پی ایچ آئی سینٹر مین عملہ نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال کے گیٹ پر رکشہ میں بچےکوجنم دےدیا پی پی ایچ آئی میٹرنٹی سینٹر حاجی مولابخش راجڑ مین رات کے وقت کوئی بھی فیمیل اسٹاف نہ ہونے ادویات وغیرہ کی قلت حاملہ خاتون کواسپتال کےگیٹ پر بچے کی پیدائش وہان پر موجود مقامی خواتین کی مدد سے اسپتال کے گیٹ رکشہ پر بچے کی ولادت شریمتی مینا زوجہ آچر اوڈ بچے کی پیدائش کے بعد اسپتال کے گیٹ پر ضروری اودیات نہ ملنے پر سیریس حالت مین عمرکوٹ سول اسپتال عمرکوٹ ریفر کردیا گیا گاؤں کےمقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ حکومت سندھ ہیلتھ کے نام پر کروڑوں روپے بجٹ دےرہی ہے مگر افسوس سندھ کےدوردراز پسماندہ علاقوں میں صحت علاج معالجے نہ ہونے کے برابر ہے سماجی سول سوسائٹی کے حلقوں نے اس واقعے کو فوری نوٹس لینے اور معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ مینیجر ثناءاللہ منگی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا ہےکہ گاؤں حاجی مولا بخش راجڑ میں چوبیس “24”گھنٹے کی سروس بند کردی گی ہے رات کےوقت ممکن نہیں ہےکہ میڑنٹی اسٹاف ڈاکٹر موجود ہوسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں