Imran Khan 15

پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس عمران خان کی بریت پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد19 نومبر ۔2019ء) انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران وزیراعظم عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا. دورانِ سماعت پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اگر عمران خان کو مقدمے سے بری کر دیا جائے تو کوئی اعتراض نہیں‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سیاسی طور پر بنائے گئے کیسز ہیں، ان کیسز سے نکلنا کچھ بھی نہیں، صرف عدالت کا وقت ضائع ہو گا.
اس موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ دھرنے میں تقاریر یا دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں.
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی ، اس موقع پر سرکاری وکیل نے عمران خان کی بریت کی درخواست کی مخالفت کے بجائے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان کو مقدمہ سے بری کر دیا جائے تو کوئی اعتراض نہیں، یہ سیاسی طور پر بنائے گئے کیسز ہیں، ان کیسز سے نکلنا کچھ بھی نہیں، صرف عدالت کا وقت ضائع ہوگا.

بابراعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دھرنے میں تقاریر یا دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں‘عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 5 دسمبر کو سنایا جائے گا. انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پارلیمنٹ و پی ٹی وی حملہ کیس میں وزیرِاعظم عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آئندہ سماعت پر 5 دسمبر کو سنایا جائے گا.
سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ 3 افواہوں کو فیک نیوز کی طرح پھیلایا جا رہا تھا، حکومت فیک نیوز کے حوالے سے قانون سازی کا ارادہ رکھتی ہے. انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف سیاسی کیس بنائے گئے، عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جوعدالتوں میں میرٹ پ کیس لڑ رہے ہیں. بابر اعوان نے کہا کہ آزادی مارچ میں کیا کیا نہیں کہا گیا لیکن حکومت نے مقدمہ درج نہیں کیا، کسی کو اکسانا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟ انہوں نے کہا کہ 3 افواہوں کو فیک نیوز کی طرح پھیلایا جا رہا تھا، حکومت فیک نیوز کے حوالے سے قانون سازی کا ارادہ رکھتی ہے.
انہوں نے کہا کہ کارکے کیس میں ہم نے ایک ارب20 کروڑ ڈالرکا جرمانہ دینا تھا، موجودہ حکومت نے جرمانے کو معاف کرایا‘ انہوں نے مزید کہا کہ آرڈنینس کا حامی نہیں ہوں، پارلیمنٹ سے قانون سازی کرنی چاہیے.

اپنا تبصرہ بھیجیں