21

سندھ کے تاجروں کو لاک ڈاﺅن توڑکر کل سے مارکیٹیں کھولنے کا اعلان

سندھ بھر کے تاجروں نے لاک ڈاﺅن توڑتے ہوئے 15اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کر دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت لاک ڈاﺅن میں توسیع کرنا چاہتی ہے تو مکمل کرفیو نافذ کرے اور ہمارا کوئی بندوبست بھی کرے.
منگل کے روز کراچی میں آل کراچی تاجر اتحاد اور سندھ تاجر اتحاد کے رہنماو¿ں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 15 اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کردیا‘سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ نے کہا کہ گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاﺅس کی آپس کی لڑائیوں نے تاجروں کو اس صورتحال میں لا کر کھڑا کیا ہے کہ آج ان کے گھروں میں فاقے چل رہے ہیں، ہمارا چھوٹا تاجر فاقہ کشی پر مجبور ہے لہٰذا 15 تاریخ سے ہم اپنی دکانیں کھولنے کے لیے تیار ہیں.

انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ زور زبردستی کی گئی، ہمیں دھمکایا گیا کیونکہ ہمیں ابھی بھی دھمکایا جا رہا ہے ہم جہاں اجلاس کرتے ہیں وہاں پہلے سے انٹیلی جنس کے لوگ آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کی مانیٹرنگ شروع ہو جاتی ہے لیکن اگر آپ یہ چیزیں کرتے ہیں تو آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ تاجر آج اس مقام پر آ کر کھڑے ہو گئے ہیں کہ وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں.
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مال کھا نہیں سکتے اور کسی دوسرے تاجر سے بھی رقم نہیں مانگ سکتے کیونکہ ان کی بھی یہی حالت ہے لہٰذا اگر ہمارے ساتھ زبردستی کی گئی تو ہم سب گرفتاریاں دینے کو تیار ہیں. انہوں نے سندھ کے تاجروں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خدارا اب پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر گرفتاریاں ہوتی ہیں تو ہم بھی گرفتاریاں دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ گھر پر بیٹھ کر مرنے سے بہتر ہے کہ ہم ان کے پاس جا کر مر جائیں گے.
سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین نے اس موقع پر تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت لاک ڈاﺅن آگے بڑھانا چاہتی ہے تو کرفیو لگائے اور ہمارا کوئی بندوبست کرے، ہم اس کے لیے بھی تیار ہے‘انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا طریقہ کار اور لائحہ عمل تیار کر لیا ہے اور ہم ہر طرح کے حفاظتی اقدامات کے ساتھ کام کریں گے. انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے سکولوں کو فیس 20فیصد کم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن نجی سکولوں کی جانب سے جو حال ہی میں فیس واﺅچرز جاری کیے گئے ہیں ان میں فیس کم نہیں کی گئی جس سے یہ بات واضح ہے کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم سول نافرمانی کی طرف نہیں جا رہے لیکن ہمارے پاس دکانیں کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘انہوں نے کہا کہ 12 ایسوسی ایشنز نے اپنے خط گورنر اسٹیٹ بینک کو بھیجے لیکن کوئی جواب نہیں آیا جبکہ ہم نے وزیر اعظم کو براہ راست ای میل کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن کوئی 10-12 دن گزرنے کے باوجود اب تک کوئی جواب نہیں آیا اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی ہمارے خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا.
انہوں نے کہا کہ صنعتکار اس ملک کی جی ڈی بی میں 8 فیصد حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے لیے 200 ارب روپے کا اعلان کر کے 100 ارب روپے پہلے ہی دن جاری کر دیے گئے لیکن چھوٹا تاجر اس ملک کی جی ڈی پی میں 40 فیصد حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا. انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں گرفتار کرنا ہے تو ہماری ایک درخواست ہے کہ ہمیں گھر سے گرفتار نہ کریں کیونکہ ہمارے بچے پریشان ہوں گے اور ہم رضاکارانہ گرفتاریاں دینے کیلئے تیار ہیں اس موقع پر الیکٹرانکس ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان نے کہا کہ آج کراچی کو بند ہوئے 28 واں دن ہے، سب سے پہلے لاک ڈاﺅن کراچی سے شروع ہوا، 18 تاریخ سے بند ہونا شروع ہوا لیکن ان 28 دن میں سرکار نے ہماری کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی کوئی تعاون کیا.
انہوں نے کہا کہ کورونا پاکستان میں نہیں تھا بلکہ اسے لایا گیا، جب لوگ آئے تو اسی وقت چند سرحدی علاقوں کو بند کردیا جاتا تو یہ پورے پاکستان میں نہ پھیلتا لہٰذا یہ آپ کی نااہلی سے پھیلا اور آپ ہی اس کے ذمے دار ہیں محمد رضوان نے وزیر اعظم سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ذاتی اخراجات، راشن اور گھروں اور دوکانوں کا کرایہ دے دیا جائے تو ہم دکانیں بند رکھنے کے لیے تیار ہیں حکومت یقین دہانی کرائے ہم دکانیں بند کرنے کو تیار ہیں.
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں لوگ چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس پر کوئی فیصلہ کریں کیونکہ اگر نہیں کریں گے تو پریشانی ہو گی واضح رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی وائرس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ متاثر ہو رہا ہے اور وفاق و سندھ حکومت کی جانب سے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے. یاد رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے طور پر حکومت سندھ نے 18مارچ سے کراچی کے کاروبار بند کر دیے تھے جبکہ 23مارچ سے مکمل طور پر لاک ڈاﺅن کردیا گیا تھا پاکستان میں اب تک وائرس سے 100 افراد ہلاک اور ساڑھے پانچ ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں.
یہ امرقابل ذکر ہے کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور اور صوبے کی کئی تاجر تنظیموں نے بھی 15اپریل کو لاک ڈاﺅن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارکٹیں کھولنے کا اعلان کررکھا ہے لاہور کے تاجروں کا بھی کہنا ہے کہ حکومت صنعت کاروں کی طرح انہیں بھی خصوصی پیکج دے اور گھریلوں اخراجات‘گھر اور دوکانوں کے کرائے اور یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگیاں کردے تو وہ مارکیٹیں بند رکھنے کو تیار ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں