15

کورونا وائرس ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے. عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے اور متنبہ کیا کہ امیر معیشتیں دنیا کے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کی تیاری کریں.
وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑتے پاکستان جیسے غریب ممالک جو بہت کمزور ہیں ان کے لیے کچھ قرضے معاف کرنے پر غور کیا جائے‘امریکی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ مجھے غربت اور بھوک پر تشویش ہے قرضوں کی کمی سے کم از کم ہمیں کورونا وائرس پر قابو پانے میں مدد ملے گی‘ اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں پریشانی ہے اگر پاکستان میں وائرس کا پھیلاﺅ شدید ہوگیا تو گرتی ہوئی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے جو کوششیں ان کی حکومت نے کی ہیں وہ واپس ہونا شروع ہوجائیں گی.وزیر اعظم نے کہا کہ برآمدات کم ہوجائے گی، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور ملکی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا‘وزیراعظم نے کہا کہ یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ میرے خیال میں بھارت، بر صغیر اور افریقی ممالک کے لیے بھی ایسی صورتحال ہوگی. انہوں نے کہا کہ اگر وائرس مزید پھیلا تو ہمیں صحت کی سہولیات کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہوگا، ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں نہ ہی ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں.علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان میں مشرق وسطیٰ میں وبا کے مرکز ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا اپنے انٹرویو میں انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر بھی بات کی. وزیراعظم عمران خان افغان صدر کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب اسے انہوں نے منصب سنبھالا ہے وہ امریکا کے ساتھ مل کر افغان امن معاہدے کے سخت محنت کررہے تھے انہوں نے کہا کہ کچھ بھی ہے پاکستان نے جس طرح امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کی اسے سراہا جانا چاہیئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں