31

لڑکی نے اپنی جنس تبدیل کرنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

لڑکی نے اپنی جنس تبدیل کرنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میں لڑکی نے اپنی جنس تبدیل کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ لڑکی نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ اسے مردوں کے کپڑے پہننا اور کرکٹ کھیلنا پسند ہے، جبکہ وہ موٹرسائیکل بھی چلاتی ہے، تاہم غربت کی وجہ سے اب وہ والدین کا سہارا بننا چاہتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو کئی مسائل درپیش ہیں، جبکہ ڈاکٹر نے سرجری سے قبل عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
لڑکی نے مفت علاج اور ریکارڈ میں اپنا نام تبدیل کرنے کیلئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ لڑکی نے یڈوکیٹ سیف اللہ محب کاکاخیل کی وساطت سے دائرکردہ رٹ میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، وفاق، چیئرمین نادرا اور پشاور کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں کے ڈائریکٹرز کو فریق بنایا ہے۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ غربت کی وجہ سے اب وہ والدین کا سہارا بننا چاہتی ہے کیونکہ معاشرے میں خواتین کو کئی مسائل درپیش ہیں اور انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، اس لئے اس نے جنس بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس نے درخواست کی ہے کہ میں بچپن سے ہی مردوں کی زندگی بسر کر رہی ہوں،اب فیصلہ کیا ہے کہ جنس تبدیل کرلوں۔ لڑکی نے مزید مطالبہ کیا یے کہ اسکا آپریشن سرکاری خرچ پر کیا جائے۔ خیال رہے کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہہ چکے ہیں کہ حکومت اسمبلی میں 18 سال کے لڑکے لڑکی کو جنس تبدیل کرنے کی آزادی دینے کا قانو ن پاس کر رہی ہے۔ سراج الحق نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام آئندہ انتخابات کو حق اور باطل کا معرکہ سمجھتے ہوئے اپنا وزن حق کے پلڑے میں ڈالیں، یہ لوگ 18 سال کے لڑکے لڑکی کو جنس تبدیل کرنے کی آزادی دینے کا قانو ن پاس کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک ایسا کوئی قانون پاس نہیں کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں