ویڈیو گیم پب جی 36

ویڈیو گیم پب جی انتظامیہ نے پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل لیگ میں حصہ لینے سے روک دیا

یڈیو گیم پب جی انتظامیہ نے پاکستانی کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل لیگ میں حصہ لینے سے روک دیا۔ اس حوالے سے گیم انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے جب تک پاکستان میں گیم پر پابندی ہے، ہم پاکستانی ٹیم کو شامل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے پاکستان ٹیم کو آج کے ہونے والے میچ میں شرکت سے روک دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ٹیم نے آج شام 5 بجے مقابلے میں حصہ لینا تھا۔
گیم انتظامیہ کے اس پیغام کے بعد پاکستانی گیمرز کی جانب سے گیم پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات سامنے آنے پر ‘پب جی’ گیم پر پابندی عائد کردی تھی۔ پی ٹی اے کی جناب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا ہے کہ پب جی گیم پر ملک میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ریس رلیز میں بتایا گیا تھا اس گیم کی وجہ سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گیم کی وجہ سے کئی نوجوا خودکشی بھی کر رہے جبکہ اس کی وجہ سے نوجوانوں کے وقت اور صحت کا ضیاع ہورہا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اب اس حوالے سے والدین اور لوگوں کے تاثرات لیے جائیں گے کہ انکا اس حوالے سے کیا کہنا ہے۔
تاہم اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی جمع کروائی گئی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ درخواست جمع کرواتے ہوئے درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پب جی کا ٹورنامنٹ جیتا، اب 10 جولائی کو پب جی ورلڈ لیگ میں شامل ہونا تھا، الیکٹرانک اسپورٹس دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے، اسے بند نہ کیا جائے۔ درخواست کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ آن لائن پیسے کمانے کا بہتری ذریعہ ہے۔
پب جی پر پابندی کی وجہ سے بڑی کمپنیوں کی سپانسرشپ معطل ہونے کا خطرہ ہے، سپانسر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کو بڑے پیمارے پر معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اگر ذہنی پریشر کی وجہ سے گیم پر پابندی لگائی گئی ہے تو پڑھائی اور تعلیمی اداروں پر بھی پابندی لگا دینی چاہیئے۔ تا ہم اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں