Breaking News :

nothing found
January 17, 2021

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو فوری عہدے سے ہٹانے کی وجہ سامنے آ گئی

گذشتہ روز عمر شیخ کو سی سی پی او لاہور کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ غلام محمود ڈوگر کو تعینات کیا گیا تھا۔ عمر شیخ کی سی سی پی او لاہور کے عہدے سے فوری برطرفی نے کئی سوالات کھڑے کر دئے تھے جن میں سے ایک سوال نمایاں تھا کہ آخر عمر شیخ کو سی سی پی او کے عہدے سے فوری ہٹائے جانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے سینئیر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں کچھ انکشافات کیے اور عمر شیخ کو سی سی پی او لاہور کے عہدے سے ہٹانے کی ممکنہ وجوہات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمر شیخ کی اچانک برطرفی کا انہیں خود بھی علم نہیں تھا۔ البتہ وہ یہ ضرور جانتے تھے کہ کچھ پاور فل گروپ سے ان کا تبادلہ کروانا چاہتے ہیں جن میں وزیر اعلٰی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید بھی شامل ہیں۔
hair cut
سی سی پی او لاہور عمر شیخ یہ کہتے تھے کہ انہیں اسلام آباد سے پوری سپورٹ حاصل ہے اور انہیں کوئی عہدے سے نہیں ہٹا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید اپنی مرضی کے محکمہ پولیس میں ایس ایچ او لگوانا چاہتے تھے لیکن سی سی پی او عمر شیخ اس کے خلاف تھے۔ رؤوف کلاسرا نے وزیراعلٰی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید سے متعلق بتایا کہ جب یہ ڈیرہ غازی خان میں تعینات تھے تو ان کے خلاف کافی خبریں سامنے آرہی تھیں اور جب یہاں میجر اعظم سلمان چیف سیکریٹری لگے جو کہ بہت ہی بہترین افسر تھے، جنہوں نے بُری ساکھ کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان سے پوسٹ آؤٹ کیا تھا ان میں طاہر خورشید بھی شامل تھا، لیکن جب میجر اعظم سلیمان عہدے سے ہٹائے تو عثمان بزدار نے طاہر خورشید کو اپنا پرنسپل سیکریٹری تعینات کر دیا تھا۔
تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ طاہر خورشید یہ جانتے تھے کہ کس افسر کو کس طرح سے خوش کرنا ہے لیکن جب ان کی ٹکر عمر شیخ سے ہوئی جو پولیس میں ایس ایچ اوز ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور ان کو کہا بھی گیا تھا کہ کوئی بھی کہے وہ کسی ایس ایچ او کو کسی کی مرضی سے ٹرانسفر یا اس کی پوسٹنگ نہیں کریں گے۔ اپنے وی لاگ میں رؤوف کلاسرا نے بتایا کہ عمر شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں جب معلوم ہوا کہ لاہور میں ایک ایک پولیس اسٹیشن کروڑوں میں بکتا ہے، یہاں پر ہاؤسنگ اسکیمیں ہیں، کروڑوں کے پلاٹ ہیں اور لوگوں کی زمینوں پر قبضہ گروپوں کی جانب سے قبضہ کیا ہوا ہے اور ایک ایک پولیس اسٹیشن میں کئی سالوں سے ایک ہی ایس ایچ او تعینات ہے جن کو لگوانے میں یہی سیاستدان ملوث ہیں۔
جب انہیں یہ سب معلوم ہوا کہ یہ افسران ہاؤسنگ سوسائٹی سے کے مالکان کے ساتھ مل کر اب تک کروڑوں روپیہ کما چکے ہیں۔ رؤوف کلاسرا کے مطابق عمر شیخ کی جانب سے ایک لیٹر جاری کیا گیا تھا جس میں انہوں نے لاہور کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ عمر شیخ کی جانب سے اکاؤنٹس تفصیلات کی طلبی پر لاہور پولیس میں تھرتھلی مچ گئی تھی اور بہت سے افسران نے اپنی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دینے سے منع کر دیا تھا، اس کے علاوہ شروع دن سے ہی عمر شیخ کی لاہور کے کرائم رپورٹروں کے ساتھ نہیں بنی اور نہ ہی وہ انہیں ملاقات کے لیے وقت دیتے تھے۔
عمر شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے تھانے کے کلچر کو بدلنے کے لیے ”عمرشیخ” فارمولا متعارف کروایا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر غلطی کرنے پر عوام کو سزا مل سکتی ہے تو ان پولیس والوں کو کیوں نہیں مل سکتی۔ عمر شیخ نے اسی بات پر عمل کرتے ہوئے پولیس کے افسران کے خلاف شکایات موصول ہونے پر ہتھکڑی لگوا کر ان کی تصاویر ریلیز کیں۔ ان کی جگہ سفارش کے بغیر بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو لگاتے تھے اور ان سے ایک ہی ڈیمانڈ کرتے تھے کہ انہوں نے آنے والے ہر سائل کی پریشانی کو دور کرنا ہے اور کسی کی سفارش پر کوئی کام نہیں کرنا۔ رؤوف کلاسرا کا مزید کیا کہنا تھا

Read Previous

حکومت31 جنوری تک مستعفی نہ ہوئی تو اسلام آباد یا راولپنڈی کی طرف لانگ مارچ کریں گے

Read Next

’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کا چائلڈ اسٹار دلہا بن گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *