9

عالمی ادارہ صحت نے سوشل میڈیا پر کرونا وائرس سے متعلق مفروضوں کی حقیقت بتا دی

عالمی ادارہ صحت نے سوشل میڈیا پر کرونا وائرس سے متعلق مفروضوں کی حقیقت بتا دی۔ تفصیلات کے مطابق کرونا وائر س کی وبا پھیلنے کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر کرونا وائرس سے بچاوٴ کیلئے مفروضوں کو بیان کیا جانے لگا ۔ تاہم اب عالمی ادارہ صحت نے مختلف مفروضوں کو کرونا وائرس سے جوڑے جانے پر جواب دے دیا ۔
عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق گرم یاٹھنڈے پانی سے نہا کر وائرس سے نہیں بچا جا سکتا ۔ اس بات میں بھی کوئی حقیقت نہیں کہ کرونا وائرس گرم علاقوں میں نہیں پھیلتا ، ساتھ ہی ساتھ لہسن کا استعمال بھی کرونا سے بچاوٴ نہیں روکتا۔ تاہم لہسن صحت کیلئے مفید ہے ۔ کرونا وائرس سے بچاوٴ کے لئے صرف صاف رہنے کی ضروری ہے ۔
اپنے ہاتھو ں کو بار بار دھو ئیں۔

کرونا وائرس سے صرف احتیاط کرکے ہی بچا جا سکتا ہے۔ وائرس مچھروں او مکھیوں سے بھی نہیں پھیلاتا۔ اپنے منہ اور آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں۔عالمی ادارہ صحت نے خود پر اور کپڑوں پر الکوحل چھڑکنے سے منع کردیا ۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ کرونا وائرس سے بچنے کیلئے ویوز کا استعمال الرجی پیدا کر سکتا ہے۔ نمونیا سمیت دیگر بیماریوں میں استعمال ادویات کرونا وائرس کے علاج میں کارآمد نہیں ہے۔
کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت رومال کا استعمال کیا جائے۔ واضح رہے کرونا وائر س سے متعلق مفروضے سوشل میڈیا پر زیر گردش تھے۔ جس کے بعد سے عوام الجھن میں مبتلا تھے۔ ملک بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 94 ہو گئی ہے۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ سندھ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 76 ہو گئی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتان سے پہنچنے والے 50مشتبہ مریضوں کے نتائج آ گئے ہیں جن میں 26 زائرین کے نتائج مثبت ہیں۔ مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ 25 مریض کراچی اور ایک حیدرآباد میں ہے۔گذشتہ روز سندھ میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 35 تھی۔مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں قرنظینہ کے انتظامات سے مطمئن نہیں تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں