proved himself 21

غلطی سے مجرم قرار دئیے جانے والے شخص نے جیل میں قانون پڑھ کر خود کو بے گناہ ثابت کیا اور اب وکیل بن کر سب کی مدد کر رہا ہے

2017ء میں وکیل جیریٹ ایڈمز نے 36 سال کی عمر میں اپنا پہلا کیس جیت لیا۔ انہوں نے جیل میں قید ایک بے گناہ شخص کو قید سے آزاد کرایا تھا۔ ایڈمز کے لیے یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اصل میں ایڈمز کو بھی نوجوانی میں جنسی زیادتی کےجرم میں سزا ہوئی تھی۔ایڈمز نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے تقریباً دس سال کا عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیا۔

جیل میں رہتے ہوئے ایڈمز نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جیل کی لائبریری میں بیٹھ کر قانون کی کتابیں پڑھنے میں بے شمار گھنٹے صرف کیے۔ انہوں نے بہت سے لوگوں کو خطوط بھی لکھے، جس کی وجہ سے وہ اپنےمقدمے میں اپیل کرنے کے قابل ہوئے۔وسکونسن انوسنس پراجیکٹ کی وجہ سے ایڈمز بے گناہ ثابت ہو کر جیل سے رہا ہوگئے۔
جیل سے رہا ہونے کے بعد ایڈمز نے قانون کی مزید تعلیم حاصل کی اور وکیل بن گئے۔

1998 میں 17 سالہ ایڈمز نے شکاگو سے گریجویشن کیا۔ گریجویشن کی خوشی میں ایڈمز اور اُن کے دوستوں نے یوسنیورسٹی آف وسکونسن میں ایک پارٹی میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ وہاں ایڈمز کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی۔ دونوں میں دوستی ہوگئی۔ دونوں کا تعلق باہمی رضامندی کا تھا۔

تین ہفتے بعد 1998 کے خزان میں ایڈمز اپنی مزید تعلیم کی تیاریوں میں تھے کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ایڈمز اور اُن کے دوستوں پر اسی خاتون نے اجتماعی جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ایڈمز شروع سے ہی اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ سب کسی غلطی فہمی کی وجہ سےہو رہا ہے۔ اس سے پہلے ایڈمز کا کبھی بھی پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سابقہ نہیں پڑا تھا۔ ایڈمز کو یقین تھا کہ یہ مسئلہ جلد ہی حل ہو جائے گا۔
تاہم جلد ہی حالات بدتر ہونے لگے اور انہیں وسکونسن کے حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ ایڈمز کو عدالت نے جو وکیل فراہم کیا تھا، وہ درست رہنمائی نہ کر سکا اس لیے وہ ایک ایسے جرم میں قید کر دئیے گئے، جو انہوں نے کیا ہی نہیں تھا۔
مقدمے کے دوران ایڈمز کے ایک دوست نے پرائیویت وکیل کی مدد سے ایک گواہ پیش کر دیا اور رہا ہوگیا۔ بدقسمتی سے ایڈمز پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل نہ کر سکے ۔

عدالتی وکیل اُن کا مناسب دفاع نہ کر سکا۔ مقدمے میں ایڈمز کے پاس بھی ایک گواہ تھا، جس کی شہادت سے وہ آرام سے مقدمے سے بری ہو سکتے تھے، لیکن اُن کے وکیل نے اس گواہ کے بیان کو مقدمے میں پیش ہی نہیں کیا۔ اصل میں اُن کے وکیل کا خیال تھا کہ اپنا دفاع نہ کرنا ہی بہترین دفاع ہوتا ہے ۔ جب ایڈمز کو اس بات کا احساس ہوا تو اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

ایڈمز نے بعد میں دعویٰ کیا کہ اُن کے مقدمے کی سماعت جس جیوری نے کی وہ مکمل طور پر سفید فام اور متعصب افراد پر مشتمل تھی، انہوں نے ایک سیاہ فام کو ویسے ہی مجرم سمجھ لیا۔ اس پر اُن کے وکیل نے گواہ کو بھی پیش نہیں کیا۔ اس مقدمے میں ایڈمز کو 28 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جیل کی کوٹھری میں اُن کے ساتھی نے اُن کی ہمت بندھائی اور انہیں کہا کہ معاملات اپنے ہاتھ میں لے۔

اس پر ایڈمز نے جیل کی لائبریری میں قانون کی کتابیں پڑھنا شروع کر دیں۔اسی دوران اُن کی نظروں سے سپریم کورٹ کا ایک مقدمہ گزارا جس کے مطابق ہر مدعا علیہ کو مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے موثر صلاح مشورے کا حق ہوتا ہے۔انہوں نے ایک غیر تجارتی ادارے وسکونسن انوسنس پراجیکٹ سے رابطہ کیا اور وکیل کیتھ فنڈلے سے بات کی۔ یہاں سے اُن کی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔
کیتھ فنڈلے کی کوششوں سے 2007 میں ایڈمز کی سزا ختم ہو گئی۔ جیل سے رہائی کے بعد ایڈمنز نے ایک کمیونٹی کالج میں داخلہ لے لیا تاکہ اپنی بیچلر ڈگری مکمل کر سکیں۔ اس کے بعد وہ شکاگو کے لویولا لاء سکول میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے 2015 میں گریجویشن مکمل کیا۔ قانون کی ڈگری ملنے کے بعد ایڈمز نے وسکونسن انوسنس پراجیکٹ کی ٹیم میں شمولیت اختیار کر لی۔ بار کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر عدالت میں پہنچ گئے لیکن اس بار وہ ایک بے گناہ شخص کو رہائی دلانے کے لیے لڑ رہے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں