66

سانحہ تیز گام: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو بلانے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ تیز گام کیس کی سماعت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو بلانے کا عندیہ دے دیا ہے۔گزشتہ روز کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر نے وضاحتی رپورٹ جمع نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بھی بلانا ہو گا اور ان سے پوچھنا ہو گا کہ لوگ جل کر مر گئے لیکن آپ کی دو وزارتیں اس قابل نہیں کہ رپورٹ جمع کروا سکیں۔
برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کا مزید کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ڈاک خانہ سمجھا ہوا ہے۔
عدالت کی جانب سے وزارت ریلوے اور وزرات داخلہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری ریلوے اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کر لیا ہے۔
ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو 5 ماہ سے کہا جا رہا ہے کہ رپورٹ آئے گی تو پیش کر دیں گے جبکہ ابھی تک کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔ نقل اثاث العين

عدالت نے رپورٹ پیش نہ ہونے پر دونوں وزارتوں سے کہا ہے کہ اگر ایسا رہا تو وزیراعظم عمران خان کو طلب کر کے ان سے پوچھنا ہو گا کہ یہاں لوگ جل کر مر گئے لیکن آ پ کے دو وزیر ابھی تک رپورٹ جمع نہیں کروا سکے۔یاد رہے تیز گام حادثے میں بہت سے لوگ آگ لگنے کی وجہ سے جھلس کر مر گئے تھے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت شرو ع ہوئی تھی۔ابتدائی طور پر وزیر ریلوے شیخ رشید سے تفصیلی رپورٹ مانگی گئی تھی لیکن ابھی تک کسی قسم کی کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔اس کیس پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بلا کر ان سے پوچھنا ہو گا کہ ہزاروں لوگ جل کر مر گئے، لیکن آپ کو وزیر رپورٹ جمع نہیں کروا سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں