17

تحت کابل کے دوعویداروں نے حلف اٹھالیا

افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف ملک کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے الگ الگ تقریب میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے.افغان صدر اشرف غنی کابل کے صدارتی محل میں نئی مدت کے لیے عہدے کا حلف اٹھانا تھا تاہم چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی جانب سے بھی تقریب کا الگ اہتمام کیا گیا.
افغان حکام کے مطابق امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کیں اور انہیں حلف برداری کی ایک تقریب کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہے اشرف غنی نے صدارتی محل میں عہدے کا حلف اٹھایا جبکہ عبداللہ عبداللہ نے اسپیڈرمین محل میں عہدے کا حلف لیا حلف برداری کی تقریب کے دوران صدراتی محل اور گرد و نواح میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے.اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں امریکی خصوصی ایلچی زلمی خلیل زاد افغانستان میں نیٹو چیف اور دیگر امریکی حکام نے بھی شرکت کی.تقریب حلف برداری کے بعد اشرف غنی نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے عبداللہ عبداللہ سے مذاکرات کی کوشش جاری ہے خیال رہے کہ 22 دسمبر 2019 کو افغانستان کے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے سامنے آگئے تھے، جن کے مطابق اشرف غنی نے 50.64 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کر لی تھی جبکہ ان کے مخالف امیدوار عبداللہ عبداللہ نے 39.52 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے.اشرف غنی کی دوسری بار انتخابی کامیابی کو عبداللہ عبداللہ نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے رد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان فراڈ انتخابات کو اس وقت تک تسلیم نہیں کریں گے، جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے.یاد رہے کہ افغانستان کے الیکشن کمیشن نے گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا تھا تاہم ان کے مخالف عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا.صدارتی انتخابات کے نتائج پر جاری اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرتے ہوئے انتخابات میں تیسری بار دوسرے نمبر پر ووٹ لینے والے عبداللہ عبداللہ کو دوبارہ ملک کا چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دینے پر اتفاق کیا گیا.پیر کی صبح صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان حلف برداری کے معاملے پر اس وقت اختلاف سامنے آیا جب دونوں نے ایک تقریب میں حلف اٹھانے کی مخالفت کی افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صدر غنی کی تقریب حلف برداری دوپہر میں ہو گی جبکہ یہ تقریب پیر کی صبح ہونا تھی تاہم انہوں نے تاخیر کی وجہ کا ذکر نہیں کیا.دوسری جانب افغان صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والے پشتون قوم پرست سیاسی جماعتوں کے راہنماﺅں اور عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد کابل پہنچ گیا ہے.کابل پہنچنے والے پشتون سیاسی راہنماﺅں میں پاکستان کے سابق وزیرداخلہ اور قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاﺅ، عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام احمد بلور، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سابق سینیٹر افراسیاب خٹک، سابق خواتین رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر اور جمیلہ گیلانی شامل ہیں‘فرحت اللہ بابر کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک چار رکنی وفد بھی کابل پہنچنے والوں میں شامل ہے.پشتون تحفظ تحریک کے رہنما ڈاکٹر سید عالم محسود، عبداللہ ننگیال، فضل خان ایڈووکیٹ اور رحیم شاہ ایڈووکیٹ بھی کابل پہنچ چکے ہیں عوامی نیشنل پارٹی کے وفد میں غلام احمد بلور کے علاوہ بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر اصغر خان اچکزئی، خیبر پختونخوا کے سابق صوبائی وزیر حاجی ہدایت اللہ اور بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد سلیم خان بھی شامل ہیں.پشتون تحفظ تحریک کے رہنما اور ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو اتوار کے روز اسلام آباد ایئرپورٹ پر حکام نے کابل جانے سے روک دیا تھا تاہم، بعد میں حکام نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے دونوں ارکان قومی اسمبلی کو کابل جانے کی اجازت دی ہے.صدارتی انتخابات میں صرف تین فی صد ووٹ لینے والے حزبِ اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرح انتخابی نتائج کو مسترد کرنے والے رشید دوستم کے بیٹوں کو وزارتیں دی جا رہی ہیں.امریکہ میں 9/11 کے حملوں اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار کئی ایک اہم طالبان راہنماﺅں کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کی اطلاعات ہیں، جن میں سابق وزیر خارجہ مولوی وکیل احمد متوکل اور پاکستان ہی سے گرفتار اور بعد میں امریکی افواج کے حوالے کیے جانے والے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نمایاں ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں