58

امریکی صدر نے ایران پر پابندیوں کے ایگزیکٹو آرڈرپر دستخط کر دیے

امریکی صدر نے ایران پر پابندیوں کے ایگزیکٹو آرڈرپر دستخط کر دیے ہیں۔ عراق میں امریکی ایئربیس پر میزائل حملے میں ملوث 8 سینئر ایرانی اہلکاروں پربھی پابندیاں عائد۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ منچن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر پابندیوں کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔
امریکی صدر کی جانب سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے بعد سے ایران کے لیے نیوکلیئراورمیزائل پروگرام پراکسی نیٹ ورک کے لیے رقم کے ذرائع بند ہوں گے۔ ایران پر لوہے، تعمیرات، مینوفیکچرنگ اورٹیکسٹائل سیکٹرپر بھی امریکی پابندیاں لاگو ہوں گی۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایران سے تجارت کرنے والےافراد کے امریکہ میں اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے عراق میں امریکی ایئربیس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے ردعمل میں اب ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کا باقاعدہ نفاذ کر دیا گیا ہے۔ ایران پر عائد پابندیاں تب تک ختم یا نرم نہیں کی جائیں گی جب تک ایرانی حکومت اپنا رویہ نہیں بدلتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ موجودہ تنازعے کے بعد اب مشرق وسطیٰ میں نیٹو کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا وقت آگیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی جانب سے عراق میں 2 امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں سے کیے گئے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قوم سے خصوصی خطاب کیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات کے ایران کے حملے میں نہ ہی کوئی امریکی نہ عراقی فوجی ہلاک یا زخمی ہوا۔
ارلی وارننگ سسٹم نے بہترین کام کیا اور اس کی بدولت امریکی و عراقی فوجی پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے تھے، جبکہ حملوں میں امریکی اڈوں کا معمولی نقصان ہوا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران مہذب دنیا کو خوف زدہ کر تا رہا ہے، قومیں ایران کا رویہ برداشت کر تی رہی ہیں تاہم اب امریکی افواج کسی بھی چیز کے لئے تیار ہیں۔ سلیمانی نے خطے میں کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کروایا اور امریکی مفادات پر حملے کی پلاننگ کر رہے تھے۔
ایران نے حالیہ دنوں میں 2 امریکی ڈرون بھی تباہ کیے۔ ایران نے یمن ،لبنان ،افغانستان اور عراق میں تباہی مچائی، امریکی ایرانی رویہ کافی عرصے سے برداشت کررہے تھے۔ اب معاملہ برداشت سے باہر ہوچکا تھا اسی لیے قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ امریکی صدر نے دوران خطاب اعلان کیا کہ ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکا جائے گا اور اب اس کے خلاف مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ جب تک میں صدر ہوں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے نہیں دیا جائے گا۔ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو فوری طور پر روکنا اور دہشت گردی کی حمایت کو ختم کرنا ہوگا۔ ہم سب کو مل کر ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا ہوگا تا کہ ہم دنیا کو محفوظ اور پرامن بناسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں