Weak CM, police uncontrollable 26

کمزور وزیراعلیٰ، پولیس بے قابو

فوج اور بادشاہت میں اقتدار جانشیں کو سونپنے سے پہلے جانشین کی خصوصیات کو پرکھا جاتا ہے اور بادشاہ اسی عمل کے لئے جانشیں کی قائدانہ و فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو اہمیت دیتا ہے فوج، بیورو کریسی، سرکاری، نیم سرکاری اداروں میں اعلیٰ تعیناتی کے لئے صرف سینئر ہونا ضروری نہیں امیدوار کا ہر لحاظ سے موزوں ہونا بھی ضروری ہے ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر کو ہر لحاظ سے اپنے بیٹوں پر ترجیح دی بے نظیر میں تمام قائدانہ صلاحیتیں موجود تھیں۔ عمران خان صاحب نے بزدار صاحب کو وزیر اعلیٰ تعینات کرتے وقت ان کی کسی صلاحیت کو نہ پرکھا صرف دباؤ کی وجہ سے انہیں وزیر اعلیٰ بنا دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی آئی پنجاب میں پانچ دھڑے بن گئے وزیر اعلیٰ کا کوئی وزیر ان کا حکم نہیں مانتا دن بدن حالات ابتر سے ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں جولائی سے نئے صوبہ کے سکریٹریٹ نے کام کرنا شروع نہیں کیا شہباز شریف کے دور میں کسی ادارے کے افسر کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کسی حکومتی احکام کی حکم عدولی کرے۔ سب سے زیادہ پولیس بے لگام ہو گئی جس نے تھانوں میں قتل عام شروع کر رکھا ہے۔

وزیر اعلیٰ صرف مقتول کے گھر جا کر پانچ لاکھ کا چیک دینے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے وزیر اعلیٰ آہستہ آہستہ پنجاب کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر رہے ہیں اور جب پی ٹی آئی اقتدار میں نہیں ہو گی تو ان سیاست دانوں کا پولیس کیا حشر کرے گی عمران خان صاحب اور بزدار صاحب دونوں سوچ لیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے کتنے سال پچھلی حکومتوں کا رونا رویہ جائے گا۔ درآمدات گھٹ نہیں رہیں بلکہ کاروبار گھٹ رہے ہیں غیر ملکی گاڑیوں کی درآمدات بند کرنے ملکی گاڑیوں کی ڈیمانڈ بڑھنے کے بجائے فروخت میں 42 فیصد کمی ہوئی پراپرٹی کی خرید و فروخت میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی جس سے کسٹم و ٹیکسوں میں روزانہ اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے ٹیکس آمدن میں سب سے زیادہ کمی پنجاب میں ہوئی ہے۔ برآمدات میں اضافہ جب ہوگا جب کاروبار بڑھے گا سرمایہ دار ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا سرمایہ باہر منتقل کر رہے ہیں جو سرمایہ کار پیسہ باہر لے جانے کی سکت نہیں رکھتے وہ کاروبار کے بجائے سرمایہ بنک میں رکھ کر منافع کھا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن کیا مدینہ کی ریاست جس میں ٹوٹے پل کے سوراخ میں بکری کی ٹانگ آ کر ٹوٹ جائے تو حضرت عمر فاروقؓ اس کا ذمہ دار خود کو سمجھتے تھے۔ عمران خان کی حکمرانی میں تھانوں میں قتل عام ہو رہا ہے، عورتوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہوں تو عمران خان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ ہندوؤں کی فریاد پر محمد بن قاسم نے ظالم حاکم سے نجات دلائی تھی عوام کس محمد بن قاسم کو آواز دیں آواز سننے والا تو خود ہی وزیر اعلیٰ کا رکھوالا ہے۔
بشکریہ ںاصرہ عتیق

اپنا تبصرہ بھیجیں